ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر عالمی توانائی مارکیٹ میں خلل ڈالنے کا الزام دراصل غیر قانونی جنگ کو جواز دینے کے لیے گھڑا گیا ایک نیا بیانیہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت میں امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں نے خطے میں جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور ایران کے خلاف بلااشتعال فوجی کارروائیوں کے باعث اہم توانائی راستے غیر محفوظ ہوئے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق اب وہی ممالک ایران پر عدم استحکام پھیلانے کا الزام عائد کر رہے ہیں جو خود خطے میں کشیدگی اور بحران کے اصل ذمہ دار ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ طرزِ عمل پرانا ہے؛ پہلے بحران پیدا کیا جاتا ہے، پھر “امن” اور “استحکام” کے نام پر مزید مداخلت اور جنگ کو وسعت دی جاتی ہے۔