ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کو امریکا پر کوئی اعتماد نہیں اور تہران اسی وقت مذاکرات میں داخل ہوگا جب دوسرا فریق سنجیدگی اور درست راستہ اختیار کرے گا۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اسی دوران سفارتی کوششیں بھی جاری تھیں۔
عراقچی نے کہا کہ بعض ممالک نے ایران کے خلاف اس جارحیت کی مذمت کی جس پر تہران ان کا شکر گزار ہے، جب کہ انہوں نے بھارت کی حکومت کی جانب سے ہمدردی کے اظہار اور انسانی امداد بھیجنے کو بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران جنگ بندی کی حالت میں ہے اگرچہ یہ صورتحال غیر مستحکم ہے، تاہم ایران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے لیکن اگر دوبارہ کسی جارحیت کا سامنا ہوا تو ایران اس کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور بعض اوقات ایک ہی دن میں مختلف اور متضاد مؤقف سامنے آجاتا ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ فریق ایسے بھی ہیں جو مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور امریکا کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ حریف دوبارہ عقلانیت کی طرف لوٹیں گے اور مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے گا۔