ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع نہیں ہونی چاہیے، قطر اور ترکی کی مشترکہ پریس کانفرنس

 قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیدان کا دورہ خطے کی موجودہ بحرانی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر اور ترکی نے خلیجی ممالک پر جنگ کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حساس صورتحال میں برادر اور دوست ممالک کے درمیان رابطے ناگزیر ہیں۔

قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر استحکام کی بحالی کے لیے بہترین راستہ تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور ترکی جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے حامی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم جنگ کی دوبارہ واپسی کے حامی نہیں ہیں اور پاکستان کا کردار خطے اور دنیا کے لیے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ہے۔

آل ثانی نے کہا کہ قطر اور ترکی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں تاکہ جلد از جلد مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں اصل ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کشیدگی کم کرنے میں مددگار نہیں اور ایران کو اس گزرگاہ کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں، شہریوں کی جبری بے دخلی، انسانی امداد کی بندش اور امدادی سامان کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے معاملات پر بھی گفتگو کی۔

انہوں نے لبنان میں اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، رہائشی علاقوں پر بمباری اور لبنانی شہریوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کے اقدامات کی بھی مذمت کی۔

امریکہ کے حالیہ دورے کے حوالے سے آل ثانی نے کہا کہ ان کی واشنگٹن میں گفتگو بنیادی طور پر پاکستان کی کوششوں سے ہم آہنگی پر مرکوز تھی، جہاں امریکی حکام کو جنگ کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا گیا۔

دوسری جانب ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ اسلام آباد کی کوششیں جنگ کے خاتمے کا سبب بنیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ترکی چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے اور سمندری راستوں کی آزادی یقینی بنائی جائے۔

فیدان نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانی المیے کی انتہا ہے اور خطے میں لاکھوں افراد پناہ گزینی اور بے گھری کی زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اور قطر مل کر پاکستان کی مذاکراتی کوششوں کی وسیع حمایت کر رہے ہیں اور دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ جنگ کی واپسی مزید تباہی لائے گی اور اسی لیے ترکی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے اسرائیل کو عالمی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی رائے عامہ کو تل ابیب کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔

فیدان نے کہا کہ قطر اور ترکی اس بات پر متفق ہیں کہ خطے کے مسائل کا حل صرف سیاسی مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے ممکن ہے، کیونکہ جنگ صرف تباہی لاتی ہے۔

Scroll to Top