اسرائیلی ایوی ایشن اتھارٹی کا بن گوریان ہوائی اڈے سے امریکی جنگی جہاز ہٹانے کا مطالبہ

اسرائیلی ایوی ایشن اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اللد شہر میں واقع بن گوریان ایئرپورٹ، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع کی گئی جنگ کے بعد سے ایک فوجی اڈے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اسرائیلی ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ شموئیل زاکای نے ٹرانسپورٹ وزیر میری ریگو کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے پاس کوئی بھی مکمل طور پر فعال بین الاقوامی ہوائی اڈا موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بن گوریان ایئرپورٹ اب محدود شہری سرگرمیوں کے ساتھ ایک فوجی ہوائی اڈے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

زاکای نے مطالبہ کیا کہ امریکا سے کہا جائے کہ وہ اپنے طیارے اس ایئرپورٹ سے نکال کر فضائیہ کے اڈوں پر منتقل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بن گوریان اسرائیل کا مرکزی شہری ہوائی اڈا ہے اور اسے فوجی اڈے میں تبدیل کرنا نہ صرف فضائی کمپنیوں بلکہ اسرائیلی شہریوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس صورتحال سے ہونے والا نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے اور آرکیاع اور ایئر حیفا جیسی چھوٹی فضائی کمپنیوں کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ نے اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ سے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات میں فضائی کمپنیوں کی مالی معاونت کی جائے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ مسئلہ صرف کھوئی ہوئی آمدنی کا نہیں بلکہ ان اضافی اخراجات کا بھی ہے جو جنگ کے دوران میں نافذ سیکورٹی پابندیوں، فضائی حدود کی بندش اور پروازوں و مسافروں کی تعداد میں کمی کے باعث کمپنیوں کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

خط کے آخر میں کہا گیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ان فضائی کمپنیوں کی بقا کی ضمانت دینا ممکن نہیں رہے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگو نے اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر سے مطالبہ کیا ہے کہ بن گوریان ایئرپورٹ کو امریکی طیاروں سے خالی کرایا جائے اور انہیں 14 دن کے اندر رامون ایئرپورٹ یا دیگر فوجی اڈوں پر منتقل کیا جائے۔

Scroll to Top