امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت کارروائی کی جائے۔ یہ ترمیم اس صورت میں نائب صدر کو صدر کے اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتی ہے جب صدر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہیں۔
اگر نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت اس بات پر متفق ہو جائے کہ صدر اپنے منصب کے قابل نہیں رہے، تو وہ کانگریس کو اس بارے میں باضابطہ اطلاع دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس یا کابینہ کے ارکان اس متعلق سوچ رہے ہیں۔
کئی ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’نسل کشی جیسے جنگی جرائم کی دھمکیاں‘ دے رہے ہیں اور ’اتنے خطرناک‘ ہیں کہ انھیں جوہری ہتھیاروں کے کوڈز تک رسائی نہیں ہونی چاہیے۔
کانگریس کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو-کورتیز نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات ’نسل کشی کی دھمکی‘ ہیں اور ان کے مطابق صدر کی ذہنی حالت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کے سینیئر ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے ووٹ دیں، ورنہ ٹرمپ ملک کو ’تیسری عالمی جنگ‘ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ’ایک پوری تہذیب کو مٹانے‘ کا بیان انتہائی تشویشناک ہے اور کانگریس کو اس پر فیصلہ کن ردعمل دینا چاہیے۔
ایوانِ نمائندگان اس وقت تعطیلات پر ہے اور 14 اپریل کو دوبارہ اجلاس ہو گا۔