ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کیخلاف فاتح خیبر کے نام سے میزائل آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر 30 میزائلوں سے حملہ کردیا ہے۔ یہ میزائل اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب داغے گئے
ایرانی حملے کے بعد اسرائیل نے شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت کردی ہے اور کہا ہے کہ خطرے سے نمٹنے کیلئے دفاعی نظام کو آپریٹ کررہے ہیں۔
ایرانی ریاستی میڈیا نے دھماکوں کی اطلاع کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے، تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں واضح اضافہ ہو رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیئم کی افزودگی نہ کرے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ایران کے مؤقف سے مطمئن نہیں تھے۔
امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کردیا ہے جس میں ایران کی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا ہے بالخصوص ایرانی سپریم لیڈر ٓآیت اللہ خامنہ ای کی رہائش گاہ کو نقصان پہنچایا ہے آیت اللہ خامنہ ای نے کچھ دن پہلے کہا تھا اگر ایران پر حملہ ہوا تو یہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی پھر یہ عالمی جنگ ہوگی۔یمنی مجاہدین نے بھی اسرائیل اور امریکہ پر حملے کا اعلان کردیا ہے ایران نے جوابی وار کیا ہے جس کے بعد اسرائیلی شہر حیفہ اور تل ابیب میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے
ایران پر حملہ محض ایک علاقائی جھڑپ نہیں رہے گا بلکہ یہ تیزی سے ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کرسکتا ہے، کیونکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر ایران کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات سرحدوں سے باہر تک جائیں گے۔ ایران کے اتحادی گروپس، خلیج میں موجود امریکی مفادات، اسرائیل کی سیکیورٹی، اور بڑی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؛ ایسی صورت میں ایک چنگاری
پورے خطے کو آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ اگر تصادم بڑھتا ہے اور عالمی طاقتیں براہِ راست میدان میں اترتی ہیں تو یہ تنازع صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی معیشت اور عالمی سلامتی کے نظام کو ہلا کر رکھ دے گا—اور تب دنیا ایک حقیقی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہوگی