اکثر امریکی شہریوں کے مطابق ٹرمپ غیر متوازن مزاج کے مالک ہیں، رائٹرز

خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے ادارہ ایپسوس کے تعاون سے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ہر 10 میں سے 6 امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عمر بڑھنے کے ساتھ مزاج کے اعتبار سے غیر متوازن ہو گئے ہیں اور ان کی ذہنی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

چھ روز تک جاری رہنے والا یہ سروے پیر کے روز مکمل ہوا، جو 79 سالہ ٹرمپ کے کانگریس میں سالانہ خطاب سے ایک دن قبل اور امریکی قانون سازوں و ججوں کی جانب سے تنقید کے بعد سامنے آیا۔

اعداد و شمار کے مطابق 61 فیصد شرکاء نے ٹرمپ کو عمر رسیدگی کے باعث مزاج کے اعتبار سے غیر مستحکم قرار دیا۔ ان میں 89 فیصد ڈیموکریٹس، 30 فیصد ری پبلکنز اور 64 فیصد آزاد حیثیت رکھنے والے افراد شامل تھے۔

ڈیموکریٹک شرکاء میں نوجوان قیادت کے حق میں رجحان زیادہ پایا گیا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ جنوری 2025 میں 78 برس کی عمر میں دوسری مرتبہ وائٹ ہاؤس واپس آئے اور حلف برداری کے دن عمر کے لحاظ سے امریکا کے معمر ترین صدر بنے۔

اگرچہ ری پبلکن حلقے اب بھی ٹرمپ کی کارکردگی کا دفاع کر رہے ہیں، تاہم ڈیموکریٹس میں ان کی صلاحیتوں پر اعتماد 29 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد رہ گیا ہے۔ آزاد حیثیت رکھنے والے افراد میں بھی ٹرمپ کو باصلاحیت سمجھنے والوں کی شرح 2023 میں 53 فیصد سے کم ہو کر 36 فیصد رہ گئی ہے۔

Scroll to Top