کاظم غریب آبادی نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اعلیٰ عہدے داروں کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ درحقیقت انسانی حقوق کے دعویداروں نے غزہ کے نہتے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم کے مقابلے میں کیا کیا ہے، سوائے انسانی اور قانونی عالمی فورموں پر اسرائیل کے خلاف ہر اقدام روکنے کی کوشش کے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے انسانی حقوق کونسل، انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کے ہاتھ میں آلہ کار بن چکی ہے۔ان ممالک کو جس چیز کی پرواہ نہیں وہ انسانی حقوق ہیں۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جب انسانی حقوق کے دعویداروں کے ہاں تہذیب نام کی کوئی چیز نہیں تھی ایران تہذیب اور انسانی حقوق کا گہوارہ تھا۔ آپ نے سنا ہو گا کہ انسانی حقوق کا پہلا چارٹر، سائرس چارٹر آف ہیومن رائٹس، ایران میں 25 صدیاں پہلے مرتب کیا گیا تھا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اس روسٹرم سے میں اعلان کرتا ہوں کہ ایران اور ایرانی اپنے وطن کے خلاف کسی بھی سازش کا چاہے عسکری ہو یا سیاسی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اپنی سرزمین اور وقار کا فیصلہ کن طریقے سے دفاع کرنا بخوبی جانتی ہے۔ ایران کے دشمن جنگ شروع تو کر سکتے ہیں لیکن وہ اسے ختم نہیں کر پائيں گے۔
جنگ کے اثرات صرف دو فریقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ آپ نے ایران کے خلاف پابندیاں اور جنگ دونوں کو آزمایا ہے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سفارت کاری اور احترام کو آزمایا جائے۔