گرین لینڈ کے وزیر اعظم ینس فریڈرک نیلسن نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ کو اسپتال بردار جہاز بھیجنے کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا: نہیں، شکریہ!
انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ میں مفت عوامی صحت کا نظام موجود ہے، جبکہ امریکا میں علاج معالجے کے لیے اخراجات ادا کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ امریکا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت اور تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر غیر سنجیدہ بیانات دینے کے بجائے ہم سے براہ راست رابطہ کیا جائے۔
ادھر ڈنمارک کے وزیر دفاع نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے صحت کے نظام کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کے باشندے ضروری طبی سہولیات اپنے ہی جزیرے میں حاصل کرتے ہیں اور خصوصی علاج کے لیے وہ ڈنمارک جا سکتے ہیں، لہٰذا گرین لینڈ میں صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے کسی اضافی اقدام کی ضرورت نہیں۔
یہ ردعمل اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایک شاندار اسپتال بردار جہاز گرین لینڈ بھیجے گا تاکہ وہاں کے مریضوں کی دیکھ بھال کی جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گرین لینڈ کے رہائشیوں کو مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو معدنی وسائل سے مالا مال اور قطب شمالی میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہ خودمختار علاقہ ہے تاہم اب بھی مملکت ڈنمارک کا حصہ ہے۔
صدر ٹرمپ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ یہ جزیرہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے اور وہ اسے حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر اسے طاقت کے ذریعے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا تھا۔