سرینڈر کا خواب اور دائمی جھنجلاہٹ
ایران کی استقامت، امریکی حکام کی سمجھ سے بالاتر ہےاور ایران کی طاقت اور استقامت کے بارے میں دشمنوں کے مغالطے
حالیہ دنوں میں ایک صہیونی میڈیا نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کے بارے میں ایک مضمون میں لکھا: “واشنگٹن کی سب سے بڑی خطا اور غلطی ایران میں طاقت کے ڈھانچے اور ماہیت کو نہ سمجھ پانا ہے، اور یہی مسئلہ مذاکرات کے عمل میں بنیادی رکاوٹ ہے۔”
یہی تجزیہ ایک اور شکل میں دوبارہ اسٹیو ویتکاف، ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی، نے بیان کیا۔ ویتکاف نے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کی ایران کے سرینڈر نہ کرنے اور امریکہ کی دھمکیوں اور طاقت کے مظاہرے کے آگے نہ جھکنے پر جھنجلاہٹ اور تعجب کے بارے میں بات کی۔ ٹرمپ کا یہ اظہارِ حیرانی اور تعجب خود اس بات کا گواہ ہے کہ امریکی صدر تصور کرتا ہے کہ ایران بھی بین الاقوامی نظام کے بعض دیگر کمزور اور وابستہ ممالک کی طرح ہے جو ہر دھمکی یا وعدے کے ساتھ پیچھے ہٹ کر اپنے مفادات چھوڑ دیتے ہیں۔
امریکی حکام نے اپنی پالیسی کی بنیاد اس فرض پر رکھی ہے کہ ہر ملک فوجی دھمکی اور اقتصادی دباؤ کے ملاپ کے سامنے دیر یا زود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ طیارہ بردار بحری جہازوں کی روانگی، جدید لڑاکا طیارے اور پابندیوں کی شدت اس لیے تھیں کہ ایران کو ایک خوف کی حالت میں ڈال دیا جائے اور تہران کو یکطرفہ مطالبات قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔
مغربی میڈیا بھی مسلسل ایران کی “بے بسی” یا “بند گلی” کی بات کرتے ہیں اور اس تصویر کو بنانے کے درپے ہیں کہ تہران دباؤ کے تحت پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رکھتا اور ایران کے لیے “اسٹریٹجک کنفیوژن”کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب امریکی خود اعتراف کر رہے ہیں کہ کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور وہ خود اس کنفیوژن کا شکار ہوگئے ہیں۔ جب امریکی صدر اس قدر طاقت کے باوجود خود سے پوچھتا ہے کہ مقابل فریق نے کیوں سرینڈر نہیں کیا کیوں نرمی نہیں دکھائی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ذہن میں جو منصوبہ تھا وہ ناکام ہوچکا ہے۔
واشنگٹن کا اصل مسئلہ اسی سادہ اندیش سطحی نگاہ میں پنہاں ہے۔ ٹرمپ کاروباری ذہنیت کے ساتھ تصور کرتا ہے کہ ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔ اس فریم ورک میں دباؤ کو تسلیم تک لے جانا چاہیے۔ لیکن ایران نے گزشتہ چار دہائیوں میں دکھایا ہے کہ وہ اپنے فیصل اسٹریٹجک خوف یا لالچ کی بنیاد پر نہیں کرتا۔ ایران کا سیاسی و سیکیورٹی ڈھانچہ اپنی پہچان کو مزاحمت کے تصور سے جوڑ چکا ہے اور خارجی دباؤ کے آگے تسلیم کمزوری کی علامت ہے۔ یہی منطق ہے جو دباؤ کی سیاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اسی بارے میں، اٹلانٹک میگزین نے بھی حال ہی میں ایک تجزیے میں تشریح کی ہے: “ٹرمپ یہ سمجھ نہیں سکتا کہ کیوں دباؤ اور دھمکی ایران کے رہبر اعلی کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرتی۔ ٹرمپ کی نظر میں ہر شخص کا ایک نقطۂ شکست ہوتا ہے اور ہر قوم کو دھمکی اور امتیاز کے امتزاج سے میز پر سرینڈر کی شرائط قبول کروانے کے لئے لایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ تحزیہ و تحلیل ایک ایسی حقیقت کے مقابل کھڑی ہوگئی ہے جو اس سے مطابقت نہیں ہے۔”
امریکی فوج کے بری و بحری و فضائیہ کے ساز و سامان کا خطے میں انبار ایران کو سرینڈر کرانے اور خوف پھیلانے کے مقصد سے تھا، مگر نتیجہ وائٹ ہاؤس کی پیشگوئی کے مطابق نہ نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ “اسٹریٹجک کنفیوژن”” واشنگٹن میں پیدا ہو چکا ہے؛ وہ جگہ جہاں پالیسی ساز اب تک ماننے کو تیار نہیں کہ ایران کی طاقت صرف عسکری توانائی میں خلاصہ نہیں ہوتی بلکہ سیاسی ارادے، داخلی اتحاد اور طویل تجربے میں ہے جسے اس نے خارجی دباؤ کے مقابلے میں حاصل کیا ہے۔
ایران گزشتہ برسوں میں شدید ترین پابندیوں اور دھمکیوں سے گزر چکا ہے اور نہ کمزور ہوا ہے اور نہ اپنے اصولوں پر سودا کیا ہے۔ جنوری کی پیچیدہ بغاوت کی حمایت و تیاری اور ایکشن پلان بھی امریکہ کو ایران میں اپنے شوم مقاصد تک نہیں پہنچا سکی۔ یہی اقتدار اور ثابت قدمی اب وائٹ ہاؤس کے لیے ایک معما بن چکی ہے۔ ٹرمپ جو سمجھتا تھا کہ دباؤ بڑھا کر کم وقت میں مطلوب نتیجہ حاصل کر لے گا، اب ایسی حقیقت سے روبرو ہے جو اس کی ذہنی ظرفیت میں نہیں سماتی۔ اس کی “حیرانی” دراصل ان ہتھیاروں کی بے فائدہ و ناکارآمد ہونے پر حیرت کی علامت ہے جنہیں وہ انتہائی خطرناک اور ناقابل شکست سمجھتا تھا۔
اصل مسئلہ امریکہ کی اسٹراٹیجک اندازوں کی غلطی ہے۔ جب تک واشنگٹن یہ نہیں مان لیتا کہ ایران کو دھمکی اور خوف کے ذریعے سرینڈر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، یہ اسٹراٹیجک کنفیوژن جاری رہے گا اور غلط فیصلوں اور غلط اقدامات کا باعث بنتا رہے گا. ایران اپنا راستہ اپنی اصولی و مستحکم پالیسیوں کی بنیاد پر طے کرتا ہے، اور تجربہ بتا چکا ہے کہ دباؤ اس راستے کو بدلنے کے بجائے اسے مزید مستحکم کر دیتا ہے.اب انتخاب وائٹ ہاؤس کا ہے کہ وہ لاحاصل دباؤ جاری رکھے یا اپنے نظریے پر نظر ثانی کرے۔