پاکستانی عوام کس شدید معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کے پھیلاؤ کا شکار ہے یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایسے میں اگر حکمران قومی خزانے سے اپنی آسائشوں پر اربوں روپیے خرچ کریں گے تو اس پر اعتراض بھی ہوگا اور اس پر فیصلہ سازوں سے جواب طلبی بھی ہونی چاہیے۔ جب حالات ہمارے جیسے ہوں تو حکمرانوں کے اخراجات ہمیشہ عوامی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔
خبروں کے مطابق حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت نے 10ارب روپے مالیت کا ایک ایگزیکٹو جیٹ خریدا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا مؤقف ہے کہ یہ جہاز دراصل مستقبل میں قائم کی جانے والی پنجاب حکومت کی مجوزہ ایئرلائن کے لیے خریدا گیا ہے، نہ کہ ذاتی استعمال کے لیے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ جب مجوزہ ایئرلائن کا منصوبہ ابھی تو خیالوں اور اعلانات تک ہی محدود ہو اور اس کے لیے اتنی بڑی رقم خرچ کردی جائے اور اوپر سے ایسی تاویلیں دی جائیں تو پھر معاملہ مزید متنازعہ اور مضحکہ خیز بن جاتا ہے۔ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ اس جہاز کو مریم نواز استعمال بھی کر رہی ہیں۔
پنجاب ملک کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے اہم صوبہ ہے، جہاں لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں افراد غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک ایگزیکٹو طیارہ جس میں صرف 15 یا 20 افراد سفر کرسکتے ہیں اُس پر یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آیا ایک عوامی نمائندہ حکومت کے لیے ایسا پرتعیش اثاثہ ترجیح ہونا چاہیے یا نہیں۔ وزیراعلیٰ کے پاس پہلے سے ایک جہاز ہے۔ اگر وہ بہت پرانا تھا تو کوئی سستا جہاز بھی خریدا جا سکتا تھا، اتنا مہنگا جہاز خریدنا کیا ہمارے حکمرانوں کو سوٹ کرتا ہے۔
اگر ایسے مہنگے جہازوں کے بغیر سفر نہیں کیا جا سکتا تو اپنے پیسوں سے خریدیں اور ہمیشہ استعمال کریں چاہے وزیراعلیٰ رہیں یا نہ رہیں۔ کہنے والے کہیں گے کہ اعلیٰ سطحی دوروں، سرمایہ کاری کے حصول اور ہنگامی انتظامی ضروریات کے لیے اس نوعیت کی سہولت ضروری ہوتی ہے، لیکن یہ دلیل اُس وقت کمزور پڑ جاتی ہے جب صوبے کے بنیادی مسائل حل طلب ہوں۔ یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی جب پاکستان میں غربت میں اضافے سے متعلق سرکاری اعدادوشمار بھی منظر عام پر آئے۔
معاشی ماہرین کے مطابق گزشتہ برسوں میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی سست روی نے متوسط اور نچلے طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں پہلے ہی ناکافی ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں بھی لاکھوں نوجوان روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں۔ ایسے حالات میں 10ارب روپے کی خطیر رقم عوامی بہبود کے متعدد منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ اگر اسی رقم کو تعلیم کے شعبے میں لگایا جاتا تو ہزاروں نئے کلاس رومز تعمیر ہو سکتے تھے، اساتذہ کی بھرتی ممکن ہوتی اور اُن بچوں کو اسکول لانے میں مدد ملتی جو غربت یا سہولیات کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم ہیں۔
اسی طرح صحت کے شعبے میں بنیادی مراکزِ صحت کو فعال بنانے، دیہی اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور ادویات فراہم کرنے یا صاف پانی کے منصوبے شروع کرنے سے براہِ راست عوام کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ ایسے میں قومی خزانے سے 10ارب روپے مالیت کا جہاز وزراعلیٰ کے سفر کے لیے خریدنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اپنی کارکردگی سے خوش ہو کر مریم نواز نے یہ جہاز انعام کے طور پر وزیراعلیٰ کے لیے خریدا ہو لیکن اُنہیں یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ حکمرانوں کی ساکھ اُن کے طرزِ زندگی اور فیصلوں سے بنتی ہے۔ جب ایک غریب ملک یا صوبے میں حکمران سادگی اختیار کرتے ہیں تو اس کا مثبت اثر عوامی اعتماد پر پڑتا ہے، جبکہ عوام کے پیسے پر اپنے لیے پرتعیش اخراجات فاصلے بڑھا دیتے ہیں۔
یہ بحث صرف ایک جہاز کی نہیں بلکہ ترجیحات کی ہے۔ کیا وسائل کا رخ عوامی فلاح کی طرف ہونا چاہیے یا انتظامی آسائشوں کی طرف؟ اس سوال کا جواب ہی کسی بھی حکومت کی اصل سمت کا تعین کرتا ہے۔ اگر حکمران طبقہ عوامی مشکلات کو اپنی ترجیح بنائے تو محدود وسائل کے باوجود بھی اعتماد اور استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر فیصلے عوامی احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوں تو بہترین منصوبے بھی تنقید سے نہیں بچ سکتے۔