بہترین مسودے پر کام جاری، جمعرات کو وٹکاف سے ملاقات کا امکان ہے، عراقچی

 ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام سے متعلق خدشات دور کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی سربراہی میں ایرانی مذاکراتی ٹیم ایک ممکنہ معاہدے کے لیے فریم ورک مسودہ پر کام کر رہی ہے۔ اگر امریکی فریق ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی حل چاہتا ہے تو اس کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

عراقچی نے کہا کہ اب بھی ایک ایسے سفارتی حل کا اچھا موقع موجود ہے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو اور اسے باہمی فائدے پر مبنی قرار دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حل ہماری دسترس میں ہے اور فوجی دباؤ یا جنگ کی تیاری کسی نتیجے تک پہنچنے میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسودے میں ایسے نکات شامل ہوں جو دونوں جانب کے تحفظات کا احاطہ کریں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر جمعرات کو جنیوا میں ملاقات ہوتی ہے تو دونوں فریق ان نکات پر کام کرکے ایک مناسب متن تیار کرسکتے ہیں اور جلد کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ 2015 کے جوہری معاہدے سے بہتر معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے یورینیم افزودگی کے حق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا اور اپنے قانونی حق کو استعمال کرتا رہے گا، اگرچہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے صفر افزودگی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

Scroll to Top