کابل میں پاکستانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر لیا گیا

افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل میں پاکستانی سفیرعبیدالرحمن نظامانی کو طلب کرکے پاکستان کے فضائی حملوں پر شدید احتجاج کیا گیا اورانھیں احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔

افغان وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ننگرہار اور پکتیکا صوبوں پر پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ، پاکستانی فوج کی جانب سے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور رہائشی علاقوں پر بمباری قابل مذمت ہے۔

پاکستان نے دعوی کیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

پاکستان کا دعوی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) ہے اور افغانستان کی طالبان حکومت نے اس کو محفوظ ٹھکانے فراہم کئے ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں ہر روز دہشتگردانہ اقدامات کرتے ہیں۔

Scroll to Top