بنگلہ دیش کے سابق چیف ایڈوائزر اور نوبیل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے عبوری حکومت کی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد اپنی سابقہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور اتوار کو ڈھاکا میں قائم یونُس سینٹر کا دورہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق نئی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کے چار روز بعد پروفیسر یونس میرپور، ڈھاکا میں واقع گرامین ٹیلی کام بھون میں قائم یونُس سینٹر پہنچے جہاں ان کے سابق ساتھیوں نے ان کا استقبال کیا۔ یونُس سینٹر کے سرکاری فیس بک پیج پر جاری بیان کے مطابق انہوں نے 18 ماہ تک عبوری انتظامیہ کی قیادت کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمیاں دوبارہ سنبھال لی ہیں۔
دورے کے دوران پروفیسر یونس نے گرامین بینک کی شراکت دار تنظیموں کے نمائندوں، سینٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر اور مشیروں سے ملاقاتیں کیں۔ یونُس سینٹر ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک اور تحقیقی ادارہ ہے جو سماجی کاروبار کے اس تصور کو فروغ دیتا ہے جس کے بانی اور داعی خود پروفیسر یونس ہیں۔
پروفیسر محمد یونس، جو گرامین بینک کے بانی منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے، کو 2006 میں غربت کے خاتمے میں خدمات پر گرامین بینک کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔
انہوں نے جولائی کی عوامی تحریک کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلی کے دوران 8 اگست 2024 کو چیف ایڈوائزر کا حلف اٹھایا تھا۔ اس وقت وہ فرانس سے وطن واپس آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ قومی بحران کے دوران طلبہ رہنماؤں کی اپیل پر انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کی۔
اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے ادارہ جاتی اصلاحات اور عام انتخابات کی تیاری کو ترجیح دی۔ 12 فروری 2026 کو 13ویں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے، جس کے بعد 17 فروری کو بی این پی نے حکومت تشکیل دی اور یوں عبوری انتظامیہ کا دور اختتام پذیر ہوا۔
چیف ایڈوائزر کے طور پر وہ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمونا میں مقیم تھے، جبکہ یونُس سینٹر کے مطابق وہ رواں ماہ کے آخر میں گلشن میں اپنی رہائش گاہ منتقل ہو جائیں گے۔