ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں فوجی اڈا بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، برطانوی اخبار

برطانوی اخبار گارڈین نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں فوجی اڈا بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اخبار کے مطابق فوجی اڈہ 5 ہزار فوجیوں پر مشتمل اور 350 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر تعمیر ہوگا، فوجی اڈہ مستقبل کی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے آپریٹنگ بیس ہوگا۔ دستاویزات کے مطابق مرحلہ وار تعمیر ہونے والا یہ اڈہ آخرکار 1,400 میٹر رقبے پر مشتمل ہوگا، جس کے گرد 26 ٹریلر پر نصب بکتر بند واچ ٹاورز، چھوٹے ہتھیاروں کی رینج، بنکرز اور فوجی سامان کے گودام ہوں گے، پورا اڈہ خاردار تاروں سے گھرا ہوگا۔ برطانوی اخبار نے کہا کہ یہ قلعہ نما تنصیب جنوبی غزہ کے ایک بنجر میدان میں بنانے کا منصوبہ ہے، جہاں نمکین جھاڑیاں اور سفید جھاڑیاں موجود ہیں اور اسرائیلی بمباری کے ملبے سے زمین بھری ہوئی ہے۔

اخبار نے ایک ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ چند بین الاقوامی تعمیراتی کمپنیوں کو جو جنگی علاقوں میں کام کا تجربہ رکھتی ہیں، پہلے ہی اس جگہ کا دورہ کروایا جا چکا ہے۔ اس مقام کو مستقبل کی بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کے لیے فوجی آپریٹنگ بیس کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو مختلف ممالک کے دستوں پر مشتمل ایک کثیرالقومی فورس ہوگی۔ آئی ایس ایف  نئی قائم کردہ بورڈ آف پیس کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ کا انتظام سنبھالنا ہے۔ اس بورڈ کے چیئرمین ڈونلڈ ٹرمپ ہیں اور اس کی قیادت میں جزوی طور پر ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔

Scroll to Top