اسلامی نظام کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور یہ کبھی عدل کی رعایت کے منافی نہیں

استاد میر تقی حسینی گرگانی نے موسسه محمدیه میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس “فقہِ مدیریت و سیاست‌گذاری در چارچوب آموزه‌های قرآنی” (قرآنی تعلیمات کے فریم ورک کے اندر فقہ مدیریت اور پالیسی سازی)میں اس کانفرنس کے منتظمین کی قدردانی کرتے ہوئے فقہ میں مدیریت کے موضوع کی قدمت پر زور دیا اور کہا: اس کانفرنس کی قرآنی ماہیت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بحث قدیم ہے اور کوئی نیا یا نوظہور مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: انبیائے الٰہی کی جانب سے حکومت کا قیام کوئی نیا امر نہیں تھا۔ قرآن مجید صراحت کے ساتھ انبیاء کے حکومتی اسلوب اور سیرت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

استاد حسینی گرگانی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد کے دور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب سقیفہ کا دروازہ کھلا اور مدینۃ العلم کا دروازہ بند ہوا تو بتدریج دیگر مباحث سامنے آئے۔ اس وقت کوئی منظم تشکیلاتی نظام موجود نہ تھا اور لوگ اپنے سوالات انفرادی طور پر اہل بیت علیہم السلام سے پوچھتے تھے۔

انہوں نے کہا: اس زمانے میں فقہاء کی تقسیم کسی مضبوط فقہی مبنا پر نہیں تھی بلکہ بحث کے مصداقی ہونے، موضوع کے صحیح ادراک کی کمی اور مختلف تعبیرات کی وجہ سے تھی حالانکہ فقہ میں اس نوعیت کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔

استاد حسینی گرگانی نے مکہ مکرمہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیرہ سالہ دور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس مدت میں عبادی اور سیاسی احکامات کے عدم اجراء کی وجہ مناسب ساخت، افرادی قوت اور وسائل کی ضرورت تھی۔

حوزہ علمیہ قم کے اس استاد نے 47 برس کی سختیوں کے بعد حکومتِ اسلامی کی کامیابی پر زور دیتے ہوئے حضرت امام خمینی (رہ) کے سورۂ حمد کے تفسیر کا حوالہ دیا اور کہا: امام خمینی (رہ) نے واضح کیا کہ انسان کے بنیادی محور اس کے وجودی اور اخلاقی پہلو ہیں۔

استاد حسینی گورگانی نے فقیہ جامع الشرائط کی شرائط کا حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: فقیہ جامع الشرائط کی انفرادی اور سیاسی دونوں جہتیں ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے اسے امام زمانہ (عج) کی نمائندگی عطا کی گئی ہے۔ تمام فقہاء ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ رہن سہن، ثقافت، رسوم و رواج بھی اس معاملے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا: اسلام میں مدیریت اور نظم و نسق ایک الہی امانت شمار ہوتی ہے۔ نظامِ اسلامی کا تحفظ جو بنیادی ترجیح ہے، عدل کی رعایت کے منافی نہیں بلکہ عدل کا نفاذ پورے نظام کے تحفظ کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

Scroll to Top