عمران خان کو جیل میں فی الحال کسی تشویشناک صورتحال کا سامنا نہیں، طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے اور جیل میں حالاتِ زندگی سے متعلق 12 فروری کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

عدالتِ عظمیٰ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق مقرر کردہ فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ دونوں رپورٹس کے اہم نکات میں نمایاں مطابقت پائی گئی اور مجموعی تصویر ہم آہنگ نظر آئی۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ جیل میں درخواست گزار کے حالات میں فی الحال کوئی منفی یا تشویشناک پہلو سامنے نہیں آیا۔ روزمرہ معمولات اور خوراک کے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا گیا جبکہ قید خانے کی حالت اطمینان بخش پائی گئی۔ باقاعدہ بنیادی طبی معائنوں کی فراہمی کی تصدیق بھی کی گئی اور جیل احاطے میں درخواست گزار کی سکیورٹی کو محفوظ قرار دیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ 23 اور 24 اگست 2023 کے سابقہ حکمناموں پر عمل درآمد ہو چکا ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق معاملہ غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ مزید کہا گیا کہ 5 اگست 2023 کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے کے بعد یہ تمام درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ درخواست گزار ٹرائل کی مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی شکایات متعلقہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیل میں اٹھا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے اور انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

عدالت نے بتایا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی حکم کی تعمیل میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں زندگی کے حالات سے متعلق رپورٹ جمع کرائی تھی، جبکہ عدالت نے موجودہ حالات کی آزادانہ تصدیق کے لیے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا تھا۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں اپنی حفاظت، سیکیورٹی، رہائشی حالات اور کھانے پینے کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

تاہم فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری سے قبل ماہر امراض چشم کی ٹیم کے ذریعے طبی معائنہ یقینی بنایا جائے گا۔

عدالت نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔

یہ سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی 3 فوجداری درخواستوں پر غور کیا گیا۔ یہ درخواستیں الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کردہ فوجداری ٹرائل کے دوران جاری مختلف عبوری اور طریقہ کار کے احکامات کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔

Scroll to Top