اڈیالہ جیل میں عمران خان کے طبی معائنے کے موقع پر ان کی ہمشیر علیمہ خان کی عدم موجودگی سے متعلق اصل وجہ سامنے آ گئی ہے، جس کے بعد پارٹی کی اندرونی سطح پر بھی سوالات اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے طبی معائنے کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم اڈیالہ جیل بھیجنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے رابطہ کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومتی حکام نے تجویز دی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کے کزن قاسم زمان کو میڈیکل ٹیم کے ہمراہ بھیجا جائے تاکہ وہ معائنے کے عمل کے دوران موجود رہیں۔
تاہم میڈیا رپورٹ کے مطابق علیمہ خان نے قاسم زمان کا نام مسترد کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر وہ خود نہیں جائیں گی تو پھر کوئی اور بھی نہیں جائے گا۔ اس فیصلے کے باعث پارٹی کی جانب سے کوئی نمائندہ میڈیکل ٹیم کے ساتھ اڈیالہ جیل نہ جا سکا۔
پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے پر باقاعدہ گفتگو بھی ہوئی۔ سینیٹر مشعال یوسفزئی نے اجلاس کے دوران کہا کہ علیمہ خان کے فیصلے کی وجہ سے کوئی رہنما جیل نہ جا سکا، جس پر انہوں نے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے پارٹی کے لیے غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں علی محمد خان اور زلفی بخاری سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے حساس موقع پر غیر مناسب حکمت عملی قرار دیا۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا ہے، تاہم اس دوران نمائندگی کے معاملے نے پارٹی کے اندر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔