حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے لندن میں ہائیکورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں حکومت کی جانب سے فلسطین ایکشن پر انسدادِ دہشتگردی قوانین کے تحت عائد پابندی کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ اقدام ’غیرمتناسب‘ تھا اور تنظیم کی سرگرمیاں ابھی اس حد، پیمانے اور تسلسل تک نہیں پہنچی تھیں کہ انہیں دہشتگردی کی تعریف کے تحت لا کر پابندی عائد کی جائے۔
عدالت کی ویب سائٹ پر جاری خلاصے کے مطابق ججوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تنظیم کو کالعدم قرار دینا آزادیٔ اظہار کے حق کے تناظر میں متناسب نہیں تھا۔
یہ مقدمہ تنظیم کی شریک بانی ہدیٰ عموری کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، تاہم مزید قانونی دلائل کی سماعت کے لیے فی الحال یہ پابندی برقرار رہے گی۔
ہدیٰ عموری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ پابندی آزادیٔ اظہار کے حق کے منافی اور غیرمتناسب تھی اور ہوم سیکرٹری نے اپنی پالیسی کی خلاف ورزی کی۔
ان کے مطابق عدالت نے پابندی کو کالعدم کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ اس کے خاتمے کی تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی۔
پابندی کے خلاف احتجاج منظم کرنے والی تنظیم ’ڈیفینڈ آور جیوریز‘ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 5 جولائی کو قانون کے نفاذ کے بعد سے برطانیہ بھر میں 2,787 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
احتجاج کے حق کی توثیق
فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور احتجاجی گروہوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے قانون اور انسانی حقوق کے ڈائریکٹر ٹام ساؤتھرڈن نے اس فیصلے کو ’احتجاج کے حق کی اہم توثیق‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت ناقدین کو خاموش کرانے یا اختلافِ رائے دبانے کے لیے وسیع انسدادِ دہشتگردی اختیارات کا سہارا نہیں لے سکتی۔
گرین پیس یوکے کی شریک ایگزیکٹو ڈائریکٹر اریبا حمید نے کہا کہ ایک احتجاجی گروہ پر پابندی عائد کرنا ’کسی ڈسٹوپیائی ناول کا منظر‘ معلوم ہوتا ہے۔
ان کے مطابق بڑی تعداد میں بزرگ افراد پر مشتمل ہزاروں مظاہرین محض پلے کارڈ اٹھانے پر گرفتار کیے گئے، جو کسی طنزیہ کہانی سے کم نہیں۔
ہیومن رائٹس واچ برطانیہ کی ڈائریکٹر یاسمین احمد نے حکومت کے فیصلے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ دہشتگردی کے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر تنقید اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
دوسری جانب اسٹاب دی وار اتحاد نے فیصلے کے بعد میٹروپولیٹن پولیس کمشنر مارک رولی اور سابق ہوم سیکرٹری یوویٹ کوپر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
تنظیم کی کنوینر لنڈسے جرمن نے کہا کہ اب کریمنل پروسیکیوشن سروس کو چاہیے کہ پرامن احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔
قانون میں تبدیلی کے بعد فلسطین ایکشن کو قانونی طور پر داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے ہم پلہ قرار دیا گیا تھا، جس کے تحت تنظیم کی رکنیت یا حمایت کرنا جرم بن گیا تھا اور اس کی سزا 14 سال تک قید ہو سکتی تھی۔
حتیٰ کہ تنظیم کا نام ٹی شرٹ یا پلے کارڈ پر ظاہر کرنا بھی 6 ماہ تک قید کی سزا کا موجب بن سکتا تھا۔
ہائیکورٹ میں 3 روزہ سماعت کے دوران ہدیٰ عموری کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پابندی بے مثال تھی۔
انہوں نے فلسطین ایکشن کا موازنہ برطانیہ میں خواتین کی حقِ رائے دہی کی تاریخی تحریک ’سفریجٹ‘ سے کیا۔