پاکستان اور ایران تہذیبی شراکت دار ہیں،صدر مملکت کی ایران کے قومی دن کی تقریب میں شرکت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی بلکہ تہذیبی شراکت دار ہیں،دونوں ممالک ہمسایے کی حیثیت سے سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور اپنی مشترکہ سرحد کو تعاون، قانونی تجارت اور ترقی کے زون میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان عالمی سطح پر متوازن تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور تحمل، گفت و شنید اور علاقائی امن کے فروغ کےلئے تعمیری کردار ادا کرنے کےلیے تیار ہے۔

صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار ایران کے قومی دن کے موقع پر ایرانی سفارتخانہ کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب میں وفاقی وزرا، گورنر خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان میں متعین غیر ملکی سفیروں، پارلیمنٹرینز، زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور صحافیوں نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی عوام کے ساتھ ان کے قومی دن کی تقریب میں شامل ہونا میرے لئے باعثِ اعزاز ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی بلکہ تہذیبی شراکت دار ہیں، ہماری مشترکہ سرحد صدیوں پر محیط تعلقات، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی عکاسی کرتی ہے، ہمارے تعلقات کی جڑیں عقیدے، تاریخ اور پائیدار ثقافتی بندھنوں سے جڑی ہوئی ہیں جو آج بھی ہمارے خطے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ فارسی زبان اور اس کی عظیم ادبی روایت نے پاکستان کی فکری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں، فارسی صدیوں تک ان وسیع علاقوں کی سرکاری زبان رہی جو آج پاکستان کا حصہ ہیں، اس کا اثر ہمارے قومی شعور میں بہت گہرا ہے، پاکستان کا قومی ترانہ خود ہماری اجتماعی شناخت پر فارسی زبان کے گہرے نقوش کو ظاہر کرتا ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کے زمانے سے بہت پہلے ہمارے عظیم ہفت زبان شاعر سندھ کے 18ویں صدی کے معروف شاعر سچل سرمست فارسی میں گہری شاعری تخلیق کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ رومی، حافظ، سعدی اور فردوسی جیسے شاعروں اور مفکرین کا پاکستان میں بڑے پیمانے پر احترام کیا جاتا ہے جبکہ علامہ اقبال جنہوں نے اپنا زیادہ تر کام فارسی میں لکھا ہمارے دونوں معاشروں کےلئے وقار اور تجدید کی مشترکہ علامت بنے ہوئے ہیں۔

صدر مملکت نے کہاکہ آج ہمارا خطہ ایک حساس دوراہے پر کھڑا ہے۔ جاری تنازعات، دہشت گردی، بیرونی مداخلت اور حل نہ ہونے والے علاقائی فلیش پوائنٹس استحکام کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ اس طرح کے چیلنجز کا مقابلہ طاقت یا یکطرفہ اقدامات سے نہیں کیا جاسکتا، تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ کشیدگی میں اضافہ صرف بداعتمادی کو گہرا کرتا ہے اور انسانی و معاشی نقصانات میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔

صدر مملکت نے کہاکہ ایران سے متعلق کسی بھی قسم کا عدم استحکام، یا مسائل کو فوجی ذرائع سے حل کرنے کی کوئی بھی کوشش سنگین خطرات کی حامل ہے، ایسے اقدامات خلیج کے خطے، جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے استحکام کو متاثر کرسکتے ہیں، عالمی امن کو نقصان اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تصادم کے نتائج بہت سنگین ہوں گے، اس لئے پاکستان بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سختی سے پابندی کی حمایت کرتا ہے، ہم یکطرفہ پابندیوں اور ایران کے خلاف زبردستی کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ پرامن مشغولیت علاقائی اور عالمی سلامتی کےلئے بہترین راستہ ہیں۔

صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم اور متعلقہ فریقین کے درمیان تعمیری گفتگو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی بانٹتے ہیں، ہم سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور اپنی مشترکہ سرحد کو تعاون، قانونی تجارت اور ترقی کے زون میں تبدیل کرنے کےلئے پرعزم ہیں، پاکستان عالمی سطح پر متوازن تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور تحمل، گفت و شنید اور علاقائی امن کے فروغ کےلئے تعمیری کردار ادا کرنے کےلئے تیار ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر ایران کی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہماری شراکت داری مزید فروغ پائے اور ہمارا خطہ سلامتی، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی طرف گامزن رہے۔ اس سے قبل تقریب کا آغاز پاکستان اور ایران کے قومی ترانوں کی دھنوں سے ہوا۔

قبل ازیں تقریب میں اسلام آباد میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے دیگر مہمانوں کے ہمراہ ایران کے قومی دن کی مناسبت سے کیک کاٹا۔

ایران کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ سے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی خطاب کیا۔

Scroll to Top