اسرائیل کے ہولناک جنگی اقدامات میں استعمال ہونے والے امریکی سپلائی شدہ تھرمل اور تھرموبیرک ہتھیاروں نے غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کو ایسا نقصان پہنچایا کہ ان کے جسم کے آثار تک باقی نہیں رہے۔
الجزیرہ کی ہوش ربا تحقیقات کے مطابق 2,842 فلسطینی ایسے ہیں جو محض غائب ہو گئے، صرف خون کے دھبے یا چھوٹے ٹکڑے رہ گئے۔
دس اگست 2024 کی صبح یاسمین مہانی اپنے بیٹے سعد کو تلاش کرتے ہوئے المیہ کی نظارے میں پھنس گئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ میں مسجد میں گئی تو اپنے پیروں تلے گوشت اور خون تھا۔ سعد کا کچھ بھی نہیں ملا، نہ جسم، نہ کچھ دفنانے کے لیے۔
تحقیق کے مطابق اسرائیل نے ممنوعہ تھرمل اور تھرموبیرک بم استعمال کیے، جن کے درجہ حرارت 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتے ہیں، اور یہ بم پوری عمارتوں اور انسانوں کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔