وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، کیوں کہ ہمارے پاس آپشنز محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا حتمی وقت نہیں بتا سکتا لیکن یہی کہوں گا کہ جتنا جلدی ہو پاکستان کو ریسپانس دینا پڑےگا۔
انہوں نے کہاکہ ہم بات کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے دن ان کے لوگ پاکستان پر حملہ کردیں، خطے میں امن چاہیے تو تمام ممالک افغانستان کی گارنٹی دیں، پھر مالی امداد کا آپشن بھی طے ہو سکتا ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ ترکیہ، یو اے ای، سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک کوششیں کررہے ہیں کہ مسئلے کا کوئی حل نکل آئے۔
انہوں نے کہاکہ ہم دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، اور ہمارے سیکیورٹی فورسز کے جوان اس جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہاکہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا آن بورڈ ہونا بھی ضروری ہے، کیوں کہ اس کے بغیر مطلوبہ نتائج نہیں مل سکتے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد جو ٹوئٹ کیا تھا اس پر ندامت ہے، وہ نہیں کرنا چاہیے تھے، لیکن میں نے اسلام کے تعلق کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ 78 سال میں کبھی ایسا تعلق نہیں تھا جو اعتماد پر مبنی ہو، جبکہ موجودہ حالات میں بھی کابل کی طرف سے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی مسجد میں ہونے والے خود کش حملے کے تانے بانے بھی افغانستان سے ملتے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کابل میں بھی اس وقت سب اچھا نہیں، وہاں حکمرانوں کے اندر بہت سے دراڑیں ہیں۔