سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت عالمی ثالثی عدالت میں جاری ہے، جس میں پاکستان نے عدالت میں اپنے اعتراضات باضابطہ طور پر جمع کرا دیے ہیں
انڈس واٹرز آربیٹریشن کیس کے دوسرے مرحلے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے، جس دوران پاکستان نے بھارتی پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن، پانی کے بہاؤ اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی تحفظات پیش کیے۔
عالمی عدالت برائے ثالثی میں پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر مہر علی شاہ اور مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفرا بھی موجود تھے۔
پاکستانی وفد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بھارت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر منصوبے تعمیر کرتے وقت سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ حدود سے تجاوز کر رہا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
پاکستان نے عدالت سے درخواست کی کہ بھارت کو معاہدے کے تحت ان تین دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی اجازت، ان کی نوعیت اور دائرہ کار سے متعلق واضح وضاحت فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے۔
وفد کا مؤقف تھا کہ بھارتی منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور متوقع پانی کے بہاؤ کا درست اور شفاف تعین نہایت اہم ہے تاکہ سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
ادھر بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی عدالت کے روبرو پیش ہوا۔
ثالثی عدالت کے بینچ کی قیادت امریکا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر شان ڈی مرفی نے کی، جبکہ دیگر بین الاقوامی ججز بھی کارروائی کا حصہ تھے۔ یہ عالمی فورم 127 رکن ممالک پر مشتمل ہے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔