غزہ کو غیرمسلح کرنے کا مقصد فلسطینیوں کی نابودی اور نسل کشی کو آسان بنانا ہے

حماس تحریک کے مرکزی رہنما خالد مشعل نے کہا کہ تخفیف اسلحہ کے بارے میں بات کرنا ہماری قوم کو ایک ایسا شکار بنانے کی کوشش ہے جو اسرائیل کے ہاتھوں اس کی تباہی اور نسل کشی کو آسان بنا دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت افراتفری اور دہشت پھیلانے کے لیے فلسطینیوں سے ہتھیار چھین کر ملیشیاؤں کو دینا چاہتی ہے-

خالد مشعل نےمزید کہاکہ ہم امریکی اور یورپی حکومتوں نیز بین الاقوامی فورسیز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ فلسطین کے نقطہ نظر کی بنیاد پر بات چیت کریں نہ کہ اسرائیل کے نقطہ نظر سے۔ ہم چاہتے ہيں کہ غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے لئے ایک متحدہ نقطہ نظر پایا جائے اور تمام امداد کو خطے میں داخل ہونے اور اس میں استحکام لانے کی کوشش کی جائے-

حماس کے اس رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تحریک کسی بھی بیرونی مداخلت اور سرپرستی کی منطق کو قبول نہیں کرتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت کی جارحیت جاری ہے، اور ہم اپنے حقوق ، قومی تشخص اور نظریات کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔خالد مشعل کا کہنا تھا غزہ میں ہمارے ہتھیاروں میں جو بچا ہے وہ دفاعی ہتھیار ہے، اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کے منصوبے کی ناکامی سب سے بڑی کامیابی تھی-

Scroll to Top