امریکا کی بحر اطلس میں کارروائی، وینزویلا سے منسلک 2 روسی تیل بردار جہازوں پر قبضہ

امریکی فوج نے شمالی بحرِ اطلس میں روسی  تیل بردار جہاز مارینرا پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ اس کے فوراً بعد ایک دوسری کارروائی میں کیریبین سمندر میں موجود ایک دوسرے ٹینکر کو بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی ہفتوں کے تعاقب کے بعد عمل میں آئی۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ پابندی شدہ اور غیر قانونی وینزویلا آئل پر پابندی پوری دنیا میں مکمل طور پر برقرار ہے۔

روسی ریاستی نشریاتی ادارے آر ٹی کے مطابق امریکی فورسز نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر اتر کر قبضہ کیا۔ آر ٹی نے ایک تصویر بھی شائع کی جس میں جہاز کے قریب ہیلی کاپٹر دکھائی دے رہا ہے۔

اس کے بعد کریبین میں ایک دوسری کارروائی میں ایم ٹی صوفیا نامی ٹینکر کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

جہاز کو 2024 میں بھی امریکی پابندیوں کا اس وقت سامنا کرنا تھا جب اس پر حزب اللہ سے منسلک کمپنی کے لیے تیل اسمگل کرنے کا الزام لگا تھا۔ اس کے بعد کوسٹ گارڈ نے دسمبر میں کیریبین میں اسے روکنے کی کوشش کی، لیکن جہاز نے روکنے سے انکار کر دیا اور بحرِ اطلس کی طرف روانہ ہو گیا

امریکی حکام کے مطابق مارینرا ایک ایسے بیڑے کا حصہ ہے جو وینزویلا، روس اور ایران کے لیے تیل لے جا رہا ہے، اور امریکا کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

روس نے کہا کہ جہاز بین الاقوامی پانیوں میں ہے اور عالمی قوانین کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے مطالبہ کیا کہ مغربی ممالک آزاد جہاز رانیکا احترام کریں۔

اس تعاقب کے دوران روس کا ایک آبدوز اور جنگی جہاز بھی قریبی پانیوں میں موجود تھے۔

Scroll to Top