ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے ایران کو لاحق بیرونی خطرات پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دشمنوں کی کسی بھی غلطی کا فیصلہ کن اور شدید جواب دیا جائے گا، جبکہ ایران کے اندر ہونے والے احتجاجات کو امریکا اور صیہونی حکومت کا داخلی معاملات میں مداخلت کا جواز قرار دینا مسترد کر دیا۔
تہران میں آرمی کی یونیورسٹی آف کمانڈ اینڈ اسٹاف کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت مکمل طور پر تیار ہیں اور ان کی دفاعی صلاحیت جون 2025 میں مسلط کی گئی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔
انہوں نے دشمن طاقتوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکی آمیز زبان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی فریق نے ایران کے خلاف غلط اندازہ لگایا تو اسے نہایت سخت اور فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، اور کسی بھی جارح کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
ایرانی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایران دشمنوں کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز بیانات کو ایک سنجیدہ خطرہ سمجھتا ہے اور ایسی کارروائیاں کسی صورت جواب کے بغیر نہیں رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد ظالمانہ پابندیاں دشمنوں کی اس منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جس کا مقصد معاشی دباؤ کے ذریعے ایرانی عوام کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو دیگر ممالک کی طرح بعض داخلی مسائل درپیش ہیں، تاہم دشمن قوتیں دانستہ طور پر عوام کو نشانہ بنا رہی ہیں، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے واضح کیا کہ ایرانی عوام کے معاشی مسائل یا پیشہ ورانہ نوعیت کے احتجاجات کا امریکا یا صیہونی حکومت کے سربراہان سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی عوام نے اپنے مطالبات کے باوجود فساد پھیلانے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کیا اور اس راستے پر چلنے سے گریز کیا جو امریکا اور اسرائیلی قیادت چاہتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اپنی بیداری اور شعور کے باعث بیرونی سازشوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے متحد رہتے ہیں۔