آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے دفتر کے سے شائع ہونے والا اداریہ
دھمکی اور مداخلت کی زبان، امریکی خارجہ پالیسی میں کوئی نئی بات یا کسی ایک خاص صدر تک محدود رجحان نہیں ہے۔ ایران میں احتجاجات کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات امریکی اقتدار کے ڈھانچے میں رچی بسی ایک گہری منطق کی عکاسی کرتے ہیں؛ ایسی منطق جس میں طاقت کے ذریعے دھمکی کو ہمیشہ خودمختار ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو منظم کرنے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ایران میں بدامنیوں کے حوالے سے امریکہ کے مکمل الرٹ ہونے کا دعویٰ کر کے ایک بار پھر اسی پرانی روایت کو ازسرِنو پیش کرنے کی کوشش کی جسے ’’حمایت کے سائے میں مداخلت‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی روایت جس کے بارے میں تاریخی تجربہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ ہمیشہ عدم استحکام سے شروع ہوتی ہے اور تباہی پر ختم ہوتی ہے۔
ایران کے داخلی امور میں مداخلت کی آمادگی سے متعلق ٹرمپ کی نئی بڑھکیوں میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ ایران میں قومی اقتدار کے تصور کو نظرانداز کرنا ہے۔ ایران ایسا ملک نہیں ہے کہ بیرونی دھمکی سے اس کی یکجہتی بکھر جائے یا باہر سے کی جانے والی ٹویٹس اور انتباہات سے اس کا سماجی نظم درہم برہم ہو جائے۔ ایران کا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ دہائیوں کے دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے دوران تشکیل پایا ہے اور تجربہ کار وپختہ ہو چکا ہے۔
ایران میں اقتدار نہ اندھے جبر کا نتیجہ ہے نہ دھاندلی کا نتیجہ ہے اور نہ ہی بیرونی مداخلت کی پیداوار، بلکہ طاقت کے ڈھانچے اور سماجی ڈھانچے کے باہمی ربط سے جنم لیتا ہے۔ یہی ربط اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ داخلی مسائل قومی دائرے کے اندر حل و فصل ہوں اور بیرونی طاقتوں کا پلے گراونڈ نہ بنیں۔
مغربی میڈیا میں عام طور پر پیش کی جانے والی تصویر کے برعکس، ایران کا سیاسی نظام احتجاج کو ایک سماجی حقیقت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ ایران میں احتجاج کوئی رد شدہ یا ناقابلِ گفتگو موضوع نہیں ہے۔ مختلف تجربات یہ دکھاتے ہیں کہ مطالبات کے اظہار کے لیے قانونی راستے موجود ہیں اور معترضین سے مکالمہ سماجی نظم و نسق کے طریقۂ کار کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جس چیز کا ایران مقابلہ کرتا ہے وہ منصوبہ بند ہنگامہ آرائی ہے جو عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور بیرونی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے جنم لیتی ہے۔
یہ امتیاز ایک بنیادی امتیاز ہے جسے دانستہ طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے تاکہ احتجاج اور تشدد کی ایک سی تصویر بنائی جائے اور بیرونی دباؤ کے لیے زمین ہموار کی جا سکے۔ اسی تناظر میں ٹرمپ کا ’’ایرانی عوام کی حمایت‘‘ کا دعویٰ انسانی ہمدردی سے زیادہ اُسی فریب کارانہ پالیسی کا تسلسل ہے جو برسوں سے جاری ہے۔
جو ریاست وسیع پابندیوں کے ذریعے ادویات، خوراک اور حیاتیاتی بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بناتی رہی ہو، وہ ایرانی قوم کی حمایت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ یہ کھلا تضاد ہے جسے رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ’’بڑھکیاں مارنا‘‘ کے عنوان سے بیان کیا۔ ایسے بیانات جو دھمکی، فریب اور وعدے کا مجموعہ ہیں اور اب عالمی رائے عامہ کے لیے بھی اپنی سابقہ کشش کھو چکے ہیں۔
اگر اس طرزِ عمل کو درست طور پر سمجھنا ہو تو نظر ایران سے آگے بڑھانی چاہیے۔ وینزویلا کے ساتھ امریکہ کا برتاؤ اسی مداخلت پسند منطق کی ایک روشن مثال ہے۔ واشنگٹن نے حالیہ برسوں میں مفلوج کن پابندیوں سے لے کر سیاسی عدم استحکام کے منظرناموں کی حمایت تک، دباؤ کے تمام ہتھکنڈےاس حکومت کے خلاف استعمال کیے ہیں۔
موجودہ حالات میں بھی امریکہ نے تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے وینزویلا کے قانونی صدر کو اغوا کیا اور اعلان کیا کہ وہ مناسب وقت تک اس ملک کے انتظام کی تلاش میں ہے اور اس ملک کا تیل واشنگٹن کے لیے اولین اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ زاویۂ نظر امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی دستاویز میں جڑ رکھتا ہے جس میں کھلے طور پر ’’مغربی نصف کرہ‘‘ کو امریکہ کے انحصاری مفادات کا دائرہ قرار دیا گیا ہے۔ اکیسویں صدی میں مونرو ڈاکٹرائن کی عملی دوبارہ تخلیق اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ بالادستی کی ذہنیت اب بھی امریکی خارجہ پالیسی پر حاوی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دباؤ، پابندی اور مداخلت کی دھمکی یا خودمختار ممالک کے خلاف اقدامات کے ذریعے امریکہ کی حکمتِ عملیوں اور مفادات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ مگر ایران کے داخلی احتجاجات کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ نہ دیانت دارانہ ہے بلکہ انتہائی منافقانہ ہے۔
ایران پر تشدد کے الزامات لگاتے ہوئے امریکہ کی حقیقت اس وقت واضح ہو جاتی ہے جب واشنگٹن کے اپنے کارناموں کا جائزہ لیا جائے؛ تب یہ محض ایک بڑھکیاں مارنا ثابت ہوتی ہے۔ عراق، افغانستان اور لیبیا ایسی مداخلتوں کی زندہ مثالیں ہیں جو عوام کی مدد کے نعروں اور نمائشی دعووں کے ساتھ آئیں اور آخرکار انہی عوام کے قتل و غارت پر منتج ہوئیں۔ ان ممالک کے عوام ان مداخلتوں کے بعد، کچھ برسوں تک اور کچھ آج تک، قومی وسائل کی لوٹ مار اور اندرونی قتل و غارت کے گواہ رہے ہیں اور ہیں۔ وہی وعدے جو آج ٹرمپ ایران کے بارے میں دہرا رہے ہیں، پہلے بھی ان ممالک کے عوام سے کیے گئے تھے، مگر نتیجہ دائمی عدم تحفظ اور تشدد کے پھیلاؤ کے سوا کچھ نہ نکلا۔
یہ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ امریکہ جس چیز کا پیچھا کرتا ہے وہ اقوام کا استحکام یا خوشحالی نہیں ہے۔ مقصد خودمختار حکومتوں کو قابو میں رکھنا اور واشنگٹن کے مطلوبہ نظم کو دوبارہ پیدا کرنا ہے۔ اس راستے میں انسانی حقوق ایک تشہیری آلے میں بدل جاتے ہیں اور فوجی مداخلت کو اخلاقی لبادے میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وہ سافٹ وار ہے جو جارح اور مظلوم کی جگہ بدلنے کی کوشش کرتی ہے اور دباؤ کو خیرخواہی کے نام سے متعارف کراتی ہے۔
اس سب کے باوجود ایران ایسا ملک ہے جو اپنی قومی اقتدار کو گہری سماجی اور تاریخی جڑوں سے حاصل کرتا ہے۔ امریکہ کی دھمکیاں، ٹویٹس اور دعوے اس کے داخلی نظم یا قومی یکجہتی کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ دہائیوں پر محیط دباؤ اور پابندیوں کے مقابلے میں مزاحمت کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایرانی قوم ہوشیاری اور آگاہی کے ساتھ بیرونی مداخلت سے آزاد ہو کر اپنا راستہ جاری رکھتی ہے۔ شہری احتجاجات قانونی دائرے میں منظم کیے جاتے ہیں اور ریاست عوام کی آواز سنتی ہے، مگر ہنگامہ آرائی اور تخریب کاری جو عوامی سلامتی کو نقصان پہنچائے برداشت نہیں کی جاتی۔ امریکی دباؤ اور غنڈہ گردی بعض ممالک میں شاید کارگر ہو جائے، لیکن ایران مزاحمت کا بلند ترین مورچہ ہے اور یہاں طاقت کا توازن استقلال اور قومی حاکمیت کے حق میں محفوظ ہے۔
ایران میں طاقت کی بنیادیں گہری ہیں اور عوام مزاحمت اور اتحاد کے تاریخی تجربے کے ساتھ ہر طرح کے بیرونی دباؤ اور دھمکی کو بے اثر بنا دیتے ہیں۔ قومی اقتدار سماجی یکجہتی، مزاحمت کی ثقافت اور آزاد قومی ارادے کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے اور کوئی بھی زور آزمائی اسے کمزور کرنے کی اہل نہیں۔ بارہ روزہ جنگ محض ایران کی مزاحمت اور اقتدار کی کتاب کا ایک ورق تھی جسے دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔