پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستانی میڈیا میں ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای سے متعلق گردش کرنے والی مبینہ اسرائیلی پراپیگنڈا خبروں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انہیں جھوٹا، من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
ایکس ( ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر قابلِ نفرت دشمن کا منظم پراپیگنڈا نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے جو ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف جھوٹی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے میں مصروف ہے،رضا امیری مقدم نے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی غلط معلوماتی مہمات دراصل دشمن کی مایوسی اور ناکامی کی واضح علامت ہیں،ان کے مطابق یہ پروپیگنڈا اس حقیقت کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے کہ دشمن 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے بہادر فوجیوں اور کمانڈروں کے خلاف میدانِ جنگ میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایرانی فوجیوں اور کمانڈروں نے اپنے محبوب وطن کی مقدس سرزمین پر بے مثال جرات، عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا اور عزت و وقار کے ساتھ جارحیت کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اپنے وطن کی مٹی میں ہی آسودۂ خاک ہوئے، جو قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ ایران کے دانشمند، دلیر اور ثابت قدم رہبر نہ صرف قوم کی قیادت کر رہے ہیں بلکہ وہ ایرانی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے عوام اور چوکس سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
بیان کے اختتام پر ایرانی سفیر نے پاکستانی میڈیا اداروں اور صحافیوں سے پُرزور اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں اور صرف معتبر و تصدیق شدہ ذرائع پر انحصار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل دہشت گردی، غلط معلومات اور اخلاقی بددیانتی عام ہو چکی ہے، اس لیے معلومات کی تصدیق میں غیر معمولی احتیاط ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسی پیشہ ورانہ ذمہ داری پاکستانی صحافت اور میڈیا کے وقار، اعتماد اور ممتاز مقام کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ایرانی سفیر نے اپنے بیان کے ساتھ ایرانی سپریم راہنماء سید علی خامنہ ای کی رائفل تھامے ایک تصویر بھی جاری کی جسے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔