اسلامی جمہوریہ ایران کی پولیس نے دارالحکومت میں ہنگاموں کے دوران اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک ایجنٹ کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، صہیونی حکومت کے جاسوسی ادارے موساد سے تعلق رکھنے والا ایک ایجنٹ جو مظاہرین کے درمیان سرگرم تھا، گرفتار کر لیا گیا۔
اس شخص نے اپنے اعترافات کے ایک حصے میں موساد سے وابستہ عناصر کی طرف سے بھرتی، تربیت اور رابطے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ “سوشل میڈیا جیسے انسٹاگرام اور ٹیلیگرام پر وہ لوگوں کو شناخت کرتے تھے اور ان لوگوں پر توجہ دیتے تھے جن کی سرگرمیاں اور لائکس زیادہ ہوتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تم جو بھی کرنا چاہو، ہم تمہاری پشت پر ہیں۔ شروع سے ہی مجھے سکھایا گیا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔”
موساد کے اس جاسوس نے اپنی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے مزید بتایا : “شروع میں کہا گیا کہ ہم لوگوں کے گھروں میں گھسیں اور پھر جلدی ہی حکم دیا گیا کہ بازار جائیں۔ مشن آہستہ آہستہ بدلتے رہتے تھے اور ہر چیز پیسے سے وابستہ تھی۔ اسی اسمارٹ فون کے ذریعے مجھے ہر کام شروع سے آخر تک سکھایا گیا تھا۔”
ملزم نے بتایا:” میرے فون میں ایسے سافٹ ویئر انسٹال کئے گئے ہیں کہ میں سب کچھ دیکھ سکتا تھا ۔ اگر میرا فون یہاں موجود ہوتا تو سگنل بھیجتا اور یہاں تک کہ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ میرے اردگرد کون سے فون نمبر موجود ہیں۔ ایک بار مجھے شبہ ہوا کہ موساد نے مجھے پیغام بھیجا ہے اور میں ان سے رابطے میں آ گیا۔ وہ میرے جیسے لوگوں کی تلاش میں تھے۔”
پولیس نے کہا ہے کہ اس فرد کی سرگرمیوں کے دوسرے پہلوؤں اور اس کے رابطے کے نیٹ ورک کے بارے میں مزید تفتیش جاری ہے اور اضافی معلومات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔