غزہ پر سال کے پہلے دن صیہیونی وحشیانہ حملے

نئے سال کی پہلی ساعتوں کے ساتھ ہی قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں سیز فائر اور جنگ بندی کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔ جمعرات کی صبح یکم جنوری سنہ 2026ء سے اب تک اس معاہدے کی کم از کم آٹھ نئی پامالیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ معاہدہ عرب اور امریکی سرپرستی میں شرم الشیخ میں طے پایا تھا جو 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہوا تھا۔

مقامی باشندوں نے بتایا کہ قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے آج صبح خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملہ کیا۔ اسی دوران قابض فوجی گاڑیوں نے شہر کے مشرقی محلوں کی جانب شدید فائرنگ کی۔

غزہ کی پٹی کے جنوب میں بھی حالات کشیدہ رہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے رفح شہر کے شمالی علاقوں پر فائرنگ کی جبکہ جنگی طیاروں نے شہر کے مختلف حصوں پر یکے بعد دیگرے فضائی حملے کیے۔

یہ جارحیت صرف جنوبی علاقوں تک محدود نہ رہی بلکہ غزہ شہر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ قابض اسرائیلی توپ خانے نے التفاح محلے کے مشرقی حصوں پر گولہ باری کی اور فوجی گاڑیوں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ اسی طرح جمعرات کی علی الصبح قابض جنگی طیاروں نے شجاعیہ محلے پر بمباری کی جہاں شدید فائرنگ اور توپ خانے کے نئے حملوں نے مشرقی محلوں کو ایک بار پھر آگ اور دھوئیں میں لپیٹ دیا۔

Scroll to Top