سید عباس عراقچی
(وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران)
صدر ٹرمپ، آپ کبھی ایران کو شکست نہیں دے سکتے۔ اگرچہ بنیامین نیتن یاہو اس سال کے آغاز میں امریکہ کو ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں گھسیٹنے کے اپنے خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن اس کی قیمت اسرائیل کو غیر معمولی اور بھاری نقصان کی صورت میں چکانا پڑی۔ یہ منظر کہ نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کر رہا ہے کہ اسے اس دلدل سے نکالا جائے جس میں وہ خود پھنس چکا ہے، اس بات کا باعث بنا ہے کہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی تعداد میں لوگ کھل کر یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ اسرائیل اب ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اضافی بوجھ ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امریکہ کے عرب اتحادی بھی اسی نتیجے پر پہنچے جس پر ہم ایرانی ہمیشہ زور دیتے آئے ہیں۔
یہ حقیقت بالکل نئے تعلقات کی راہ ہموار کرتی ہے جو ہمارے خطے کو یکسر بدل سکتے ہیں۔ امریکی حکومت اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے، یا تو وہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے اور اپنی سیاسی ساکھ کے ذریعے اسرائیل کے لیے بدستور کھلے چیک جاری کرتی رہے، یا پھر ایک بنیادی اور مثبت تبدیلی کا حصہ بنے۔ کئی دہائیوں سے ہمارے خطے کے بارے میں مغربی پالیسی زیادہ تر ان افسانوں پر مبنی رہی ہے جن کی جڑیں اسرائیل میں ہیں۔ خرداد کے مہینے کی جنگ کئی حوالوں سے فیصلہ کن تھی، جن میں ایک یہ بھی تھا کہ اس نے مغرب کے لیے یہ واضح کر دیا کہ اساطیر سازی کو حکمتِ عملی سمجھنے کی قیمت کتنی بھاری پڑتی ہے۔
اسرائیل اور اس کے نیابتی عناصر ’’فیصلہ کن فتح‘‘ کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران کمزور اور بازدار بنا دیا گیا ہے، لیکن ہماری وسیع اسٹریٹجک گہرائی، ایک ایسا ملک جو رقبے میں مغربی یورپ کے برابر اور آبادی میں اسرائیل سے دس گنا بڑا ہے، اس بات کا باعث بنی کہ ہمارے بیشتر صوبے اسرائیلی جارحیت سے محفوظ رہے۔ اس کے برعکس، اسرائیل کے تمام شہریوں نے ہماری فوجی طاقت کا تجربہ کیا۔ اب ’’ناقابلِ شکست‘‘ ہونے کا وہ بیانیہ، جو اسرائیلی اساطیری مشینری کا محور تھا، زمین بوس ہو چکا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے گرد گھڑا گیا مصنوعی بحران اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح تل ابیب میں لکھی گئی کہانیاں اور اسرائیل کے اتحادیوں کے ذریعے پھیلائی گئی روایات نے غیر ضروری محاذ آرائی کو ہوا دی۔
کئی دہائیوں سے ہم ایرانی اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ہم جوہری ہتھیاروں کے خواہاں نہیں ہیں۔ یہ کوئی وقتی یا حربی دعویٰ نہیں بلکہ مذہبی، اخلاقی اور سلامتی کے تقاضوں پر مبنی ایک اسٹریٹجک نظریہ ہے۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں امریکی حکومت کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا گیا کہ ایران تباہی کے دہانے پر ہے، 2015 کا جوہری معاہدہ ہماری شہ رگ ہے اور اس سے نکلنا ہمیں فوری طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گا۔ انہی افسانوں نے واشنگٹن کو مؤثر سفارتی فریم ورک ترک کرنے اور ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی اپنانے پر اکسایا، جس کا نتیجہ صرف ’’زیادہ سے زیادہ مزاحمت‘‘ کی صورت میں نکلا۔
امریکہ میں، خاص طور پر وہ لوگ جو اندرونِ ملک امریکہ کی تعمیرِ نو پر توجہ دینا چاہتے ہیں، اب کھل کر اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں جو پہلے ایک ممنوع موضوع تھی۔ اسرائیلی بیانیوں کو بلاچون و چرا قبول کرنے سے امریکی وسائل ختم ہوئے، اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور امریکہ ایسے تنازعات میں الجھ گیا جو اس کے مفاد میں نہیں تھے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران تل ابیب کی حکومت نے غزہ میں دسیوں ہزار بے گناہ فلسطینیوں کو قتل کیا ہے اور لبنان، شام، ایران، یمن حتیٰ کہ قطر پر بھی حملے کیے ہیں۔ خطے کا تقریباً ہر ملک خطرے میں رہا ہے۔ کوئی بھی ذمہ دار شخص ان جارحیتوں کو دفاعی ردعمل نہیں کہہ سکتا۔
حالیہ پیش رفت میں ایک اور امید افزا پہلو بھی ہے۔ ہمارے خطے میں اسرائیل کے مشترکہ خطرے کو قابو میں کرنے کے لیے ایک نئی رفتار۔ اس نے نام نہاد ابراہیم معاہدوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے اور نئی علاقائی شراکت داریوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مشترکہ دوستوں میں اس بات کا ایک غیر معمولی رجحان پیدا ہوا ہے کہ وہ بات چیت کو آسان بنائیں اور کسی بھی طے پانے والے معاہدے کے مکمل اور قابلِ تصدیق نفاذ کی ضمانت دیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا امر ہے۔ ایران امریکہ جوہری مذاکرات کے دوران اسرائیل کی جانب سے سفارت کاری پر حملے کے باوجود، ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی کسی معاہدے کے لیے اب بھی پرعزم ہے۔
اس مقصد کا حصول اس بات سے مشروط ہے کہ امریکہ یہ تسلیم کرے کہ مذاکرات، شرائط مسلط کر کے ہتھیار ڈلوانے کا نام نہیں ہیں۔ ہماری قوم بخوبی جانتی ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنہوں نے ان پر حملہ کیا ہو، اور وہ امریکہ کے ساتھ تعامل کے تلخ تجربات دیکھ چکی ہے۔ اگر صدر ٹرمپ واقعی ان کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے اندرونی حامیوں سے کیے گئے وعدوں پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو انہیں وہ کام کرنا ہوگا جو ان کے کسی پیش رو نے نہیں کیا۔ امن اور سفارت کاری کے ذریعے ایک غیر ضروری بحران کا خاتمہ۔ پہلا قدم یہ ہے کہ ایرانی قوم سے احترام کی زبان میں، بغیر کسی شرط یا تبصرے کے، بات کی جائے۔ ایران کبھی امریکہ کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں رہا۔
خرداد کے مہینے میں ہمارے کمانڈروں کی جانب سے برتی گئی ضبط و تحمل، جس کے باعث خطے میں امریکی فوجی اڈے محفوظ رہے، اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔ اس تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے لامحدود تصور کیا جائے۔ دنیا کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ایرانی اپنے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ وہ حقوق ہیں جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تمام دستخط کنندگان کو حاصل ہیں، جن میں پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے تمام پہلوؤں تک رسائی شامل ہے۔ ہم ایرانی ایک منصفانہ معاہدے کے حصول کے لیے سنجیدہ مذاکرات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ایسا معاہدہ قابلِ تصدیق اور عملی طور پر پابندیوں کے خاتمے پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ہمارے خطے میں ہونے والی تبدیلیاں مفاہمت پر عمل درآمد کو بالکل نئے انداز میں ممکن بنا سکتی ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو وہ راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں جس پر اس سے پہلے کوئی نہیں چلا، ایک مختصر مگر اہم موقع کی کھڑکی کھل چکی ہے۔ قسمت بہادروں کا ساتھ دیتی ہے، اور ایک شیطانی چکر کو توڑنے کے لیے محض اسے جاری رکھنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جرات درکار ہوتی ہے۔