بنگلہ دیش نے اقلیتوں سے متعلق بھارتی بیانیہ گمراہ کن قرار دے دیا

بنگلہ دیش نے اقلیتوں کی صورتحال سے متعلق بھارت کی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

ڈھاکا میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے تبصرے زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے اور بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے طویل ریکارڈ کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ حکومتِ بنگلہ دیش اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کسی بھی ‘غلط، مبالغہ آمیز یا بدنیتی پر مبنی بیانیے’ کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتی ہے۔

وزارتِ خارجہ نے بھارت کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا جن کے تحت انفرادی نوعیت کے مجرمانہ واقعات کو منظم طور پر ہندو اقلیت کے خلاف ظلم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق، اس طرح کے بیانیے بنگلہ دیش کے خلاف منفی جذبات کو ہوا دینے اور بھارت میں بنگلہ دیشی اداروں کے بارے میں بداعتمادی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے دی گئی ایک مثال کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی وزارت نے کہا کہ مذکورہ فرد ایک ‘فہرست میں شامل مجرم’ تھا، جس کی ہلاکت مبینہ طور پر بھتہ خوری کی کوشش کے دوران پیش آئی۔ اس واقعے کو اقلیتوں پر ظلم کے طور پر پیش کرنا نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔

بیان میں بھارت کے متعلقہ حلقوں پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے بیانیوں سے گریز کریں جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور باہمی اعتماد، احترام اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

Scroll to Top