ارنا کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ غزہ میں اعلان کردہ امریکی جنگ بندی کا نفاذ ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی جارحیت اس علاقے میں جاری ہے اور بچوں کو بھی “مشتبہ” قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہے۔ امریکی جنگ بندی کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ غزہ کے لوگوں کے لیے جنگ بندی کا کوئی مطلب نہیں سوائے مسلسل موت اور تباہی کے۔
رہے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں اور بچوں میں نومولود بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی وحشیانہ جارحیت میں اکتوبر سے اب تک 400 سے زائد فلسطینی شہید اور 1000 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جبکہ تعمیر نو کا عمل بدستور مسدود ہے۔
اسرائیلی فوج کے کنٹرول سے باہر ایک ایسے علاقے میں جسے “محفوظ علاقہ یا سیف زون” کہا جاتا ہے، ایک اسکول پر اسرائیلی فضائی حملے ایک پانچ ماہ کا بچہ شہید ہوگیا جسے سفید ترپال کا کفن پہنايا گیا ہے۔ 29 دن کا ایک دیگر بچہ اپنے گھر والوں کے ساتھ خیمے میں تھا، وہ شدید ٹھنڈ کا شکار ہو کر شہید ہوگیا۔
آٹھ سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی اسرائیلی فوج کی طرف سے اسرائیلی کنٹرول والی سرحد کے قریب، جسے “یلو لائن” کہتے ہیں، آنے کے شبہ میں شہید کیا جا رہا ہے۔
یہ غزہ میں نام نہاد “جنگ بندی” کے دوران تباہی و بربادی اور مایوسی کے مناظر ہیں۔ غزہ میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے دفتر کے سربراہ الیسانڈرو ماراکچ کہتے ہیں، “یہ آج تک زمین پر سب سے زیادہ تباہ شدہ جگہوں میں سے ایک جگہ ہے۔“