بھارت نے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس پر پاکستان کی جانب سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں دستیاب معلومات کے مطابق بھارتی حکومت نے دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا اور اس سے 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق منصوبے پر مجموعی لاگت 3 ہزار 277 کروڑ 45 لاکھ بھارتی روپے آئے گی اور اس پر عملی کام آئندہ سال کے آغاز میں شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ اس منصوبے کو بھارت کی سرکاری کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دلہستی اسٹیج ٹو منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دریائے چناب پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں میں شامل ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے، جسے بھارت نے حال ہی میں یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دلہستی اسٹیج ٹو منصوبے میں دلہستی اسٹیج ون کے موجودہ ڈھانچے کو استعمال کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ 390 میگاواٹ کا دلہستی اسٹیج ون منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا تھا اور یہ رن آف دی ریور اسکیم کے تحت چل رہا ہے۔ نئے مرحلے میں اسی ڈیم، ذخیرۂ آب اور پاور انٹیک کو استعمال کیا جائے گا۔
اس مرحلے میں دریائے ماروسدر کا پانی پاکل دل منصوبے کے ذریعے دلہستی ڈیم تک لایا جائے گا، جس کا مقصد دستیاب آبی وسائل سے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنا ہے۔ تاہم ماحولیاتی منظوری دیتے وقت متعلقہ بھارتی حکام نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ پانی کے بہاؤ میں یہ تبدیلی دریا کی قدرتی ساخت اور ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
منصوبے کے فعال ہونے کے بعد پاکل دل منصوبے کے زیریں حصے میں ماروسدر دریا کے تقریباً 25 کلومیٹر طویل حصے میں نمایاں ہائیڈرولوجیکل تبدیلیاں متوقع ہیں۔ دریائے چناب سمیت سندھ طاس کے دریاؤں کے پانی کی تقسیم 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان طے شدہ ہے، تاہم دلہستی اسٹیج ٹو منصوبہ اس معاہدے کی شقوں سے تجاوز کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے 23 اپریل 2025 کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔ معاہدے کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر حق حاصل ہے، جبکہ بھارت کے حصے میں راوی، بیاس اور ستلج کے دریا آتے ہیں۔
معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت نے سندھ طاس کے تحت آنے والے متعدد متنازع پن بجلی منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں سواول کوٹ، رتلے، برسار، پاکل دل، کوار، کیرو اور کرتھائی ون اور ٹو شامل ہیں۔ دلہستی اسٹیج ٹو کو بھی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔