غزہ میں نورانی محفل، جنگ کے سائے میں قرآن حفظ کرنے والوں کو اعزاز سے نوازا گیا

اطلاعات کے مطابق غزہ کے الشاطی پناہ گزیں کیمپ میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں تقریباً 500 فلسطینی حفاظ کو اعزاز سے نوازا گیا جنہوں نے سخت جنگی حالات کے باوجود قرآنِ مجید حفظ کیا۔ یہ تقریب ایمان، صبر اور فلسطینی عوام کی غیر متزلزل استقامت کی علامت بن گئی۔

یہ تقریب مقامی دینی اور سماجی اداروں کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی جس میں کیمپ خاندانوں، علما، اساتذہ اور دیگر پناہ گزیں افراد نے شرکت کی، ان میں سے بہت سے افراد جنگ کے دوران کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔ تقریب میں تلاوتِ قرآن مجید، دعائیں اور تقاریر شامل تھیں، جن میں مسلسل بمباری، محاصرے اور انسانی المیے کے باوجود صبر، ایمان اور ثابت قدمی پر زور دیا گیا۔

اس پروقار اور نورانی تقریب سے خطاب کرنے والوں نے کہا کہ جنگ کے دوران قرآن حفظ کرنا نہ صرف ایک ذاتی روحانی کامیابی ہے بلکہ فلسطینی شناخت کے تحفظ اور اجتماعی مزاحمت کی علامت بھی ہے۔

ایک منتظم نے کہا کہ ’’ایسے وقت میں جب غاصب اسرائیل ہماری زندگیوں، ہماری ثقافت اور ہمارے مستقبل کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، ان حافظوں اور حافظات نے اللہ کے کلام کو اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا ہے۔‘‘

اعزاز پانے والوں کے اہلِ خانہ نے فخر اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی نے شدید مصائب کے درمیان امید کی کرن پیدا کی ہے۔ والدین نے بتایا کہ بمباری کے دوران اور بگڑتے ہوئے حالات میں ان کے بچوں نے سکون اور حوصلے کے لئے قرآن کا سہارا لیا۔

Scroll to Top