ارنا کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعے کی رات اپنے دورۂ اصفہان سے واپسی پر کہا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ پابندیوں کے ساتھ بھی رہا جاسکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی پیداواری سرگرمیوں، تجارت اور ملک کی ترقی کو پابندیوں کے خاتمے پر منحصر نہیں کرنا چاہئے اور اس کے لئے اس دن کا انتظار نہیں کرنا چاہئے جب پابندیاں ختم ہوں۔
سید عباس عراقچی نے پابندیوں کے باوجود ملک کی اقتصادی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ کشیدہ حالات اور پیچیدہ ترین دور میں بھی پابندیاں دور کرانے کی کوششوں کی طرف سے غافل نہیں رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ گزشتہ برسوں کے دوران پابندیاں ختم کرانے کے اپنے مشن کی طرف سے غافل نہیں رہی لیکن سچ یہ ہے کہ پابندیاں صرف ایسے منصفانہ اور شرافت مندانہ مذاکرات کے ذریعے ہی ختم ہوسکتی ہیں جو باہمی احترام اور دوطرفہ مفادات پرمبنی ہوں نہ کہ زورزبردستی، دھمکی اورتسلط پسندی پر۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جتنی اہمیت پابندیاں ختم کرانے کی کوششوں کی ہے اتنی ہی اہمیت پابندیاں بےاثر کرنے کے اقدامات کی بھی ہیں۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہمارے دشمن فوجی جارحیت کے ذریعے اپنے منحوس اہداف کے حصول میں ناکام رہے ہیں اور ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ جو اہداف وہ فوجی جارحیت کے ذریعہ حاصل نہ کرسکے انہیں عوام کی معیشت پر دباؤ اور اقتصادی مشکلات کے ذریعے حاصل کرلیں۔