جنوبی یمن میں صہیونی حکومت کی مداخلت، انصار اللہ کا انتباہ

جنوبی یمن کے مختلف صوبوں میں متحدہ عرب امارات کے عناصر صہیونی حکومت کی پس پردہ حمایت کے ساتھ پیشقدمی کررہے ہیں۔

انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی عبوری کونسل کے عناصر کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کوئی قومی منصوبہ نہیں بلکہ یمن کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے ناپاک عزائم کی تکمیل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے جنوب میں جاری پیش رفت کا مقصد اس خطے کو بیرونی عناصر کے نفوذ اور ان کے منصوبوں کے نفاذ کا مرکز بنانا ہے اور اسی کے ذریعے صہیونیوں کی براہ راست موجودگی کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

الفرح نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے کبھی یمن کے اتحاد یا خودمختاری کی حفاظت کے لئے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا۔ سعودی عرب اور امارات یمن پر قبضے اور اس کے وسائل کی لوٹ مار کے لیے کام کر رہے ہیں، اور یہ مقصد اندرونی کرائے کے عناصر کے استعمال کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں اور یمن پر کسی بھی فریق کی سرپرستی یا نگرانی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہر وہ سیاسی یا عسکری منصوبہ جو یمن کی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے حق میں نہ ہو، ایک دشمنانہ منصوبہ ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ ہفتوں میں یمن کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں امارات اور سعودی عرب کے کرائے کے عناصر کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کرگئی ہیں۔ یہ جھڑپیں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ امریکہ نے بھی ان عناصر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یمن کے مشرق میں حضرموت اور المہرہ کے صوبے امارات اور سعودی عرب کے حامی کرائے کے عناصر کے درمیان مسابقت کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔ امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل نے تیل سے مالا مال علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس پر سعودی عرب نے ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنوبی عبوری کونسل اپنی افواج حضرموت اور المہرہ سے نکالے اور کشیدگی کم کرے۔

جنوبی عبوری کونسل 2017 میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست حمایت سے قائم کی گئی تھی اور آغاز ہی سے اسے سعودی عرب کی حمایت یافتہ خودساختہ یمنی حکومت کے ساتھ گہرے اختلافات کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں یہ اختلافات عدن اور دیگر جنوبی علاقوں میں متعدد بار مسلح جھڑپوں میں بدل چکے ہیں۔

حالیہ برسوں میں، یمن جنگ میں سعودی عرب کے براہ راست کردار میں کمی اور ریاض و ابوظبی کے درمیان اختلافات میں اضافے کے ساتھ، جنوبی عبوری کونسل عملی طور پر یمن کے جنوب میں ایک غالب طاقت بن کر ابھری ہے۔

Scroll to Top