فلسطینی وزارت زراعت نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی فوج اور اس کے آبادکاروں نے صرف ایک ہفتے کے دوران مغربی کنارے میں 8 ہزار سے زائد درخت اکھاڑ دیے اور زمینوں کو روند ڈالا جن میں اکثریت زیتون کے درختوں کی ہے۔ وزارت زراعت کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں زرعی شعبے کو لگ بھگ سات ملین ڈالر کا مالی نقصان پہنچا ہے۔وزارت نے واضح کیا کہ یہ سب ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد زمین پر قبضہ جمانا اور اصل باشندوں کو بے دخل کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملے رواں ماہ دسمبر کے تیسرے ہفتے کے دوران ہوئے اور ان کا مرکز شمالی اور وسطی مغربی کنارہ رہا۔ وزارت نے بتایا کہ قابض فوج نے جنین کے مغرب میں بلدہ سیلہ الحارثیہ میں تقریباً پانچ ہزار زیتون کے درخت اکھاڑ دیے جبکہ رام اللہ کے مشرق میں بلدہ ترمسعیا میں مزید تین ہزار درخت جڑ سے نکال دیے گئے۔
اسی طرح مختلف علاقوں میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران القدس کے مشرق میں بلدہ مخماس میں 156 زیتون کے درخت اکھاڑے گئے۔ طولکرم گورنری کے بلدہ رامین اور النزلة الشرقیہ میں 100 انجیر کے درخت تباہ کیے گئے۔ قلقیلیہ کے مشرق میں واقع گاؤں الفندق میں 13 زیتون کے درخت کاٹے گئے جبکہ سلفیت گورنری کے بلدہ دیر استیا اور بیت لحم کے جنوب میں بلدہ المنیا میں 19 زیتون کے درخت اکھاڑ دیے گئے جن میں 10 قدیم درخت بھی شامل تھے۔