دھمکیاں مسترد، میزائل ٹیکنالوجی کو مزید تقویت دیں گے، امام جمعہ تہران

امام جمعہ تہران آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ ایران ایک طاقتور ملک ہے جس نے دشمن کی ہیبت کو توڑ کر اسے کنفیوژن میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے صاحبانِ منبر اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ کمزوری کا پیغام منتقل نہ کریں، کیونکہ “مضبوط ایران” رہبر معظم انقلاب کا نعرہ ہے اور اس کی بنیاد قرآنی آیات پر ہے، جن میں طاقت اور دشمن کے مقابلے میں آمادگی پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی، اقتصادی اور عسکری ہر میدان میں آمادگی اسلامی جمہوریہ ایران کا بنیادی اصول ہے۔ دشمن یہ کہتا ہے کہ ایران کے پاس میزائل طاقت نہیں ہونی چاہیے، لیکن ایران کے پاس یہ طاقت موجود ہے اور اسے مزید مضبوط کیا جائے گا۔ جو بھی اس نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، اسے فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

امام جمعہ تہران نے کہا کہ بعض افراد مشورہ دیتے ہیں کہ ’’مضبوط ایران‘‘ کی بات نہ کی جائے تاکہ دشمن خوف زدہ نہ ہو، حالانکہ دشمن اصل میں اسلام اور ایران کی اسلامی شناخت سے خوف کھاتا ہے اور اس کا مقصد نظام کا خاتمہ ہے۔ دشمن سے مقابلے کا واحد راستہ وہی ہے جو رہبر انقلاب نے متعین کیا ہے، یعنی مضبوط ایران۔ خدا کی مدد سے طاقتور ایران دشمنوں کو زمین گیر کر دے گا۔ محاذ آرائی کا راستہ کھولنا ایک بڑی غلطی ہے۔

آیت اللہ خاتمی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور عیسوی سالِ نو کے آغاز پر ایران اور دنیا بھر کے مسیحیوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ حضرت مسیح محبت، شفقت اور انسانیت کی علامت تھے۔ جو حکمران خود کو مسیحی کہتے ہیں مگر صہیونی حکومت کے جرائم کی حمایت کرتے ہیں، وہ حضرت مسیح کی تعلیمات کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے حریت پسند انسانوں اور مسیحیوں کو چاہیے کہ وہ ایسے حکمرانوں کو نہی عن المنکر کریں، جیسا کہ مختلف مسیحی ممالک میں صہیونیت کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔

Scroll to Top