صیہونی حکومت نے غزہ کے باشندوں کو مصر کی طرف دھکیلنے کے یکطرفہ منصوبے پر کام کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔
اس اقدام پر مصر نے فوری ردعمل کا اظہار کیا اور فلسطینی شہریوں کی جبری منتقلی مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کے حوالے سے خبردار کیا۔
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ کو غزہ پٹی کے باشندوں کی جبری نقل مکانی قبول کرنے کے لیے تین تجاویز موصول ہوئیں جنہیں مسترد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ پٹی میں انتظامی اور ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل اور تعیناتی پر عرب ممالک کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور یہ طریقہ کار فلسطینی تنظیموں کو بھی منظور ہے۔
عبدالعاطی کا کہنا تھا کہ غزہ پٹی کے لیے ٹرمپ کے منصوبے پر من چاہے انداز میں عمل نہیں ہونا چاہیے اور صرف ٹرمپ ہی ہیں جو جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ آٹھ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس سے قبل رفح کراسنگ کو یکطرفہ طور پر کھولنے اور غزہ کے باشندوں کو مصر منتقل کرنے کے حوالے سے صیہونی حکام کے حالیہ بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا ہے
عرب وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی فلسطینیوں کے لئے اپنے وطن میں رہنے اور اپنے ملک کی تعمیر نو اور ترقی میں حصہ لینے کو ممکن بنانے کے لئے لازمی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
ساتھ ہی انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا جس میں رفح کراسنگ کو دوطرفہ طور پر کھولنے، لوگوں کی رفت و آمد کی آزادی اور انہیں اپنے مکانات چھوڑنے پر مجبور نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جنگ بندی کو مکمل طور پر مستحکم کرنے، عام شہریوں کے مصائب کو ختم کرنے، غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے، تعمیر نو کا عمل شروع کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کو ذمہ داریاں سونپنے کے لیےزمین ہموار کرنے جیسی باتیں بھی آٹھ عرب ممالک کے وزرا کے مطالبات میں شامل ہیں۔