نیتیش کمار کی جانب سے ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے کا معاملہ، دہلی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مذمت کر دی

دہلی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اس تعلق سے منظور کی گئی قرارداد میں گزشتہ پندرہ دسمبر کو پیش آنے والے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ ایک اعلی آئینی عہدے پر فائز شخص نے عوامی پلیٹ فارم پر ایک عورت کے وقار اور خودمختاری کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی۔

ایس سی بی اے نے کہا کہ عورت کے حجاب یا سر ڈھانپنے کے کپڑے کو زبردستی ہٹانا نہ صرف اس کے وقار کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کی خود مختاری، فیصلہ سازی کی آزادی اور مذہبی آزادی پر بھی براہ راست حملہ ہے۔

بار ایسوسی ایشن نے اس عمل کو خواتین کے لیے “توہین آمیز ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ذہنی پستی کا اظہار ہوتا ہے اور اس طرح کے واقعات آئین کی طرف سے محفوظ کردہ بنیادی اقدار کو مجروح کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی مذکورہ قرارداد میں مرکزی وزیر گری راج سنگھ اور اترپردیش حکومت کے وزیر سنجے نشاد کے”غیر مہذب اور تضحیک آمیز” بیانات کی بھی مذمت کی۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس پورے واقعے کو ملک کے آئین میں درج مساوات اور عدم امتیاز کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے قصورواروں سے غیرمشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

ایسوسی ایشن نے خواتین کے وقار، انفرادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کیلئے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

Scroll to Top