امریکا تائیوان کو ہتھیار فروخت کرکے جنگ کے خطرے ہوا دے رہا ہے۔چین

چین نے آج ایک بار پھر امریکا اور تائیوان کے درمیان ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کی مذمت کی ہے۔

امریکا اور تائیوان کے درمیان ہتھیاروں کی فروخت کے نئے کی معاہدے کی مالیت 11.1 بلین ڈالر ہے، جو فریقین کے درمیان اس طرح کا سب سے بڑا معاہدہ ہے اور اس نے تائیوان کے لئے امریکی فوجی مدد کے بارے میں چین کے بڑھتے ہوئے خدشات کو جنم دیا ہے۔

تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی، جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے، نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تناؤ بڑھا دیا ہے، حالانکہ دو فریقوں نے حال ہی میں اپنی تجارتی جنگ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

بیجنگ نے بارہا دھمکی دی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس جزیرے پر فوجی کنٹرول حاصل کر لے گا۔

امریکی انٹیلی جنس اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ چین کے صدر نے تائیوان پر حملے کے لئے اپنی فوج کو 2027 تک تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

چینی وزارت دفاع کے ترجمان ژانگ ژیاؤانگ نے آج ایک پریس کانفرنس میں امریکا سے کہا ہے کہ وہ اپنے اشتعال انگیز اور غلط اقدامات سے باز آئے اور اپنا رویہ درست کرے۔

انھوں نے اس سلسلے میں بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔

چین کی وزارت دفاع نے خبردار کیا کہ جاری کشیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے کے دو ساحلوں کے درمیان تعلقات نازک ہیں اور تصادم کا امکان ہے۔

Scroll to Top