سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس؛ وینزویلا کا بحری محاصرہ کھلی جارحیت ہے، روس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روسی مندوب واسیلی نبنزیا نے وینزویلا کی ساحلی ناکہ بندی کو مکمل اور کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے امریکہ کو اس کے بھیانک نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے واشنگٹن کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس رویے کے تباہ کن نتائج کا براہ راست ذمہ دار ہے اور یہ بین الاقوامی سیاست میں یکطرفہ اور قانون دشمن رویے کی ایک مثال ہے۔ روسی مندوب نے افسوس کا اظہار کیا کہ نئی امریکی انتظامیہ اب بھی وینزویلا کے حوالے سے پرانی اور ناکام پالیسیوں کو اپنا رہا ہے۔

وینزویلا کے سفیر ساموئل مونکادا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایک بڑے منصوبے کا صرف پہلا ہدف ہے، امریکہ تفرقہ پیدا کر کے مرحلہ وار حملے کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ امریکہ اپنے اقدامات کو جنگی حقوق کی روشنی میں جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مونکادا نے مزید کہا کہ امریکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جو تاریخ کی سب سے بڑی لوٹ مار کی مثال ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کے لیے جنگ کا تجربہ عراق، شام اور لیبیا میں تباہی کے سوا کچھ نہیں لایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکی حملوں میں تیزی آئی تو وینزویلا اپنے دفاع کے حق کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے گا۔

چینی سفیر نے بھی کسی بھی بہانے سے وینزویلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور غیر قانونی پابندیوں کی مخالفت کی اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کیریبین خطے میں جہاز رانی کی سیکیورٹی اور وہاں کے علاقائی ممالک کی آزادی کا احترام کرے۔

Scroll to Top