ترکیہ میں انقرہ سے طرابلس کیلئے اڑان بھرنے والا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، طیارہ حادثے میں لیبیا کے فوجی سربراہ سمیت عملے کے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
ترک وزیرداخلہ نے بتایا کہ طیارہ شام 8 بجکر 10 منٹ پر راونہ ہوا جبکہ 8 بجکر 52 منٹ پر رابطہ منقطع ہوا، طیارے کی جانب سے حیمانہ کے قریب ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع ملی جس کے بعد طیارے سے دوبارہ رابطہ قائم نہ ہو سکا، اس کے بعد ترک میڈیا نے تصدیق کی کہ طیارے کے ملبے تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ایسن بوغا ایئرپورٹ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کیلئے اڑان بھرنے والے والے طیارے میں اچانک تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی، اڑان بھرنے کے 30 منٹ بعد طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ منقطع ہوگیا جس کے بعد طیارے نے دوبارہ انقرہ کی جانب رخ موڑنے کی کوشش کی تاہم لینڈنگ سے قبل ہی حادثے کا شکار ہوگیا۔
طیارے میں مجموعی طور پر 5 افراد سوار تھے، حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں لیبیا کے فوجی سربراہ کے سوار ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں جن کی اب تصدیق کر دی گئی ہے۔
لیبیا کے وزیراعظم نے آرمی چیف محمد علی احمد الحداد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف انقرہ سے طرابلس جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے، حادثے میں بریگیڈیئر جنرل محمود القتاوی، مشیر الاساوی بھی جاں بحق ہوگئے، لیفٹیننٹ جنرل الفطوری بھی حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں سوار تھے۔
لیبیا کے وزیراعظم نے بتایا کہ لیبیا کے آرمی چیف ترکیہ کا سرکاری دورہ کرنے کے بعد انقرہ سے طرابلس واپس لوٹ رہے تھے کہ ان کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا، طیارے میں لیبیا کی بری افواج کے کمانڈر، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر، چیف آف اسٹاف کے مشیر اور چیف آف اسٹاف آفس کے فوٹوگرافر بھی موجود تھے جو طیارہ تباہ ہونے سے مارے گئے۔
اس دورہ میں لیبیا کے آرمی چیف نے ترکیہ کے وزیر دفاع یاسر گولر اور اپنے ہم منصب بیریکتار اوگلوسے ملاقاتیں کی تھیں۔
حادثہ سے ایک ہی روز پہلے ترکیہ کی پارلیمنٹ نے اس فیصلے کی منظوری دی تحی کہ لیبیا میں ترکیہ کے فوجی مزید دو برس تک تعینات کیے جائیں گے، طیارہ گرنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
اس سے قبل ترک حکام نے بتایا تھا کہ ایسن بوغا ہوائی اڈہ پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، طیارے کی جانب سے حیمانہ کے قریب ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع ملی تھی۔
ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع کے بعد طیارے سے دوبارہ رابطہ قائم نہ ہو سکا۔