آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے دفتر کے سے شائع ہونے والا اداریہ
*واشنگٹن پوسٹ اور فرَنٹ لائن کی مفصل مشترکہ رپورٹ ’’ماسٹر مائنڈز کا قتل ‘‘ اگرچہ مغربی فاتحانہ انداز میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کی سطروں کے بیچ ایک ایسی حقیقت موجود ہے جسے برسوں جھٹلایا جاتا رہا۔ اور وہ یہ کہ ایران پر حملے کا فیصلہ، ڈاکٹر پزشکیان کی حکومت میں مذاکرات کے نئے دور کی سفارتی رکاوٹ کا وقتی ردعمل نہیں تھا، بلکہ ایک ’’بیس سال‘‘ پر مشتمل منصوبے کے آخری مرحلے کا نفاذ تھا؛ یعنی ہمیشہ کی طرح فولادی پنجے پر مذاکرات کا مخملی دستانہ۔ ایران کی اسرائیل و امریکہ کے ساتھ 2025مئی 12روزہ جنگ اچانک نہیں تھی؛ صرف ایک پرانے منصوبے کا ’’زیرو پوائنٹ‘‘ آ پہنچا تھا۔
کچھ عرصہ پہلے ایک معنی خیز تصویر بھی سامنے آئی: وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ اُن پائلٹوں کو سراہ رہا تھا جنہوں نے فردو کی ایٹمی تنصیبات پر ’’مڈ نائٹ ہیمر نامی کارروائی انجام دی تھی۔ لیکن وہ جملہ جو ٹرمپ نے اس ملاقات میں نقل کیا، وہ 30 ہزار پاؤنڈ وزنی GBU-57 بموں کے دھماکے سے بھی زیادہ گونج رکھتا تھا: ’’پائلٹوں نے مجھے بتایا کہ ہم 22 سال سے یہ راستہ پریکٹس کر رہے ہیں؛ سال میں تین بار، پورے بائیس سال۔‘‘
یہ عدد کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ 22سال بالکل سن 2003 سے ملتا ہےوہی زمانہ جب ایران کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ اٹھا، جب یورپی وزرائے خارجہ امریکہ کی ہم آہنگی سے سعدآبادمحل آتے تھے اور اُس وقت کے حکومتی فیصلے کے تحت ایران نے رضاکارانہ طور پر اور عارضی مدت کے لیے افزودگی کی سرگرمیاں معطل کیں۔ عین انہی دنوں میں، امریکی فضائیہ میں نطنز اور فردو پر بمباری کی مشقیں جاری تھیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کہتی ہے کہ ’’آپریشن نارنیا‘‘ (جنگ کی پہلی رات ایٹمی سائنسدانوں کے قتل) میں امریکہ اور اسرائیل کی عملی ہم آہنگی کی سطح بے مثال تھی۔ ان دستاویزات کے مطابق حملے کے آخری منصوبے کو فروری ۲۰۲۵ میں خفیہ ملاقات میں جس میں نتن یاہو اور ٹرمپ شریک تھے’’چار آپشنز‘‘ کے جائزے کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ اس کے بعد ہونے والے سفارتی حربے، جیسے ’’60 روزہ الٹی میٹم‘‘، محض ایک فریب تھے تاکہ ایران کے دفاعی نظام کی چوکسی کم کی جا سکے۔
صیہونی-سکیورٹی تھنک ٹینک JINSA کے تجزیوں کے مطابق جب تک خطے میں مزاحمتی قوتیں اسرائیل کو گھیرے رکھے ہوئے تھیں، ایران پر حملے کا کوئی بھی منظرنامہ دشمن کے لیے کم خطرناک نہیں تھا۔ 28نومبر2024 کو شام کی حکومت کا سقوط اور حزب اللہ پر دباؤ وہی عوامل تھے جنہوں نے جنگ کے دروازے کھولے۔ دشمن کے پاس بیس سال سے نیت بھی تھی، منصوبہ بھی، نقشہ بھی، اور مسلسل مشق بھی لیکن موقع اور جرأت نہیں تھی۔
ایرانی میزائلوں کا اسرائیلی دفاعی نظام توڑتے ہوئے گزرنا، بھاری مالی نقصان، اور ’’آئرن ڈوم‘‘ کے ناقابلِ شکست ہونے کے افسانے کا ٹوٹ جانا اس بات کا اعلان تھا کہ میدان کا تعین کرنے والی قوت ایران ہے۔ رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی کامنہ ای نے 26 نومبر 2024 کی تقریر میں اسی حقیقت کو ایک جملے میں سمیٹا: ’’بارہ روزہ جنگ میں، ملتِ ایران نے امریکہ کو بھی شکست دی اور صیہونیوں کو بھی… وہ شرارت کرنے آئے تھے، خالی ہاتھ لوٹ گئے۔‘‘
اس 12روزہ جنگ کا ایک خفیہ مقصد یہ تھا کہ عوام پر دباؤ بڑھایا جائے، عوام اور نظام کے درمیان فاصلے پیدا کیے جائیں، اور ایران کی مزاحمتی پشت کو کمزور کیا جائے۔ مگر نتیجہ کیا نکلا؟ جنرل ’’شلومی بائندر‘‘ (سربراہ آمان) اور ’’مائیک ویلٹز‘‘ (امریکی قومی سلامتی مشیر) کی ملاقات کی خفیہ رپورٹ نے ایک اعتراف کو عیاں کیا: ’’ایران کے پاس اب بھی تقریباً ۲۰۰۰ بھاری لانگ رینج بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی فوج کی 22 سالہ مشقیں، موساد کی منصوبہ بندی، 12 دن کی شدید بمباری، 11 سائنسدانوں کا قتل، اور مغربی ممالک کی فوجی و انٹیلی جنس ہم آہنگی و شراکت ان سب کے باوجودجمهوری اسلامی ایران کی دفاعی و ڈیٹئرنس ریڑھ کی ہڈی صحیح وسالم کھڑی ہے۔
یقیناً یہ جنگ بے قیمت نہیں تھی؛ قیمتی جانیں گئیں، کچھ تنصیبات متاثر ہوئیں۔ لیکن اس نے خطے کی یادداشت میں ایک بڑا سبق نقش کر دیا: مزاحمت کی حکمتِ عملی کی اپنی قیمت ہوتی ہے، لیکن تسلیم اور سمجھوتہ جس کے نتیجے میں ایران کے دفاعی و میزائل بازو کمزور پڑ جاتے اور اس کے علاقائی دوست پسپا ہو جاتےیہ قیمت ایران کے وجود ہی کے خاتمے پر ادا ہونی تھی۔
htps://khl.ink/f/62147