تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
پاکستان کی ماضی کی خارجہ پالیسی کو دیکھا جائے تو یہ چند ممالک کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ اس میں وسعت نہیں ہے اور ساتھ میں تعلقات کو کبھی امریکی اور کبھی عرب ممالک کی آنکھ سے دیکھا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے تعلقات بھی سکڑتے گئے۔ ہم دنیا کے تنازعات سے بچنے کے چکر میں تعلقات کی دوڑ میں بھی بہت پیچھے رہ گئے۔ اسلام ہماری خارجہ پالیسی کی اہم بنیاد رہا، مگر ہم اس بنیاد پر اپنے تعلقات کو وسعت نہیں دے سکے۔ پاکستان کا بطور ریاست جو کردار بنتا ہے، اس کا دائرہ اس سے بہت کم رہ گیا۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ وہ ممالک جن کی جنگ آزادی میں پاکسان نے بنیادی کردار ادا کیا، جیسے الجزائر اور مراکش وغیرہ، ان ممالک سے بھی پاکستان کے تعلقات واجبی سے ہی رہ گئے۔
پاکستان نے اپنے تعلقات کو انڈین تناظر میں دیکھا، جو انڈیا کے قریب ہوتے، ہم انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، حالانکہ قومی ریاستوں کے تعلقات میں یہ ضروری نہیں ہے کہ جو انڈیا سے اچھے تعلقات رکھ رہا ہے، ہم اس سے اچھے تعلقات نہ رکھ سکتے ہوں۔ اس پالیسی کا بہت برا نتیجہ نکلا اور پاکستان رفتہ رفتہ پس منظر میں جانے لگا۔ انڈین حکومت نے سنگل پوائنٹ ایجنڈا بنا کر پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ سعودی عرب اور عرب امارات جیسے ممالک سے پاکستان کے تعلقات پس منظر میں جاتے دکھنے لگے اور وہاں بھی یوں لگ رہا تھا جیسے انڈیا چھا گیا۔ اب یوں لگ رہا ہے کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔ پاکستان اب اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک کوئی سربراہ مملکت پاکستان آنے کو تیار نہیں تھا، اب ہمارے فیلڈ مارشل صاحب علماء سے اپنے خطاب میں بتا رہے تھے کہ دوست ممالک کے سربراہوں کی لائینیں لگی ہوئی ہیں اور ہر کوئی ہم سے اپنے تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ آپریشن بنیان المرصوص نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو اظہار کا موقع دیا اور آٹھ جدید ترین انڈین لڑاکا طیاروں کی تباہی سے پاکستان کو فضائی اور فوجی برتری عطا کر دی ہے۔ جدید وار فئر میں عصر حاضر کا سب سے بڑا معرکہ اپنی اپنی فضاوں میں رہ کر لڑا گیا، جسے پاکستان نے جیت لیا۔ اس جیت نے جہاں دنیا کو پاکستان کی طرف متوجہ کیا، وہیں پاکستان کے لیے مواقع کا جہاں پیدا کر دیا ہے۔ اب پاکستان کے فوجی ساز و سامان کی اربوں ڈالر کی ڈیلز ہو رہی ہیں۔ اب پاکستان تنازعات میں اپنا کردار ادا کرنے کی عملی کوشش کر رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کی فوجی طاقت کو دیکھتے ہوئے جاری تنازعات میں پاکستان کو سائیڈ لینے پر مواقع نظر آرہے ہیں۔
وصی بابا کی رپورٹ کے مطابق پہلے سوڈان نے پاکستان کے ساتھ تین ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کیا۔ پھر یہ ڈیل رک گئی اور اکتوبر میں ڈیل بحال ہوگئی، اب ڈیل کا سائز کم ہو کر 23 کروڑ ڈالر رہ گیا تھا۔ یا یوں کہہ لیں کہ خبر ہی بس اتنے پیسوں کی آئی اور پھر کسی میڈیا کو ہوا نہیں لگنے دی گئی۔ سوڈان نے 10 کراکرم تربیتی جہاز خریدنے ہیں، مگ 21 کے انجن نامعلوم تعداد میں حاصل کرنے ہیں، یہ روسی جہاز ہے، جو پاکستان کے پاس چینی ماڈل کا دستیاب رہا ہے، 220 ڈرون خریدنے ہیں، مختلف اقسام کے، 150 پاکستان ساخت کی بکتر بند گاڑیاں خریدنی ہیں، ائر ڈیفنس سسٹم خریدنا ہے۔ پاکستان سوڈان میں جو پوزیشن لے رہا ہے، اس میں یہ سعودی سائیڈ پر کھڑا ہے اور اماراتی ریپڈ فورس کے خلاف ہے۔ امارات اور پاکستان کے درمیان کشیدگی آسکتی ہے۔
آپ نے ابھی فیلڈ مارشل صاحب کا لیبیا میں استقبال تو دیکھ ہی لیا ہوگا۔ یہ حیران کن استقبال اور پروٹوکول بھی غیر معمولی ہے۔ پاکستان اور لیبیا کے درمیان 4.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں مبینہ طور پر 16 JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے، 12 سپر مشاق ٹرینر ہوائی جہاز، 44 حیدر مین جنگی ٹینک، جدید انفنٹری مارٹر سسٹم، 1 کثیر مقصدی بحری جہاز شامل ہیں، جبکہ لیبیا کی مسلح افواج کے لیے تربیت بھی معاہدے میں شامل ہیں۔ لگ یوں رہا ہے کہ اب لیبیا میں ہمارا بنیادی کردار ہوگا، جس میں اسلحہ کی فراہمی سے لے کر افواج کی تربیت بھی شامل ہوگی۔ یہاں سے بھی بہت سی دشمیناں اور دوستیاں سامنے آئیں گی۔ لیبیا میں سعودی عرب کے الگ مفادات ہیں، ترکی کے اپنے گروپ ہیں اور اماراتی بھی یہاں موجود ہیں۔
اسی طرح عراق اور پاکستان کے درمیان بھی دفاعی تعلقات بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے صدر مملکت محترم جناب آصف علی زرداری صاحب ابھی بغداد میں ہیں۔عراق بھی بڑی مقدار میں پاکستان سے اسلحہ اور جہاز خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ سینکڑوں عراقی کیڈٹس ہمارے پاس تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس سب سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے۔ اب پاکستان خطے سے باہر کے ممالک سے تعلقات استوار کر رہا ہے۔ دفاعی کامیابیوں کو معاشی ترقی کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔ یہ اپنی جگہ اچھی بات ہے، اس سب میں اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیئے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی حضرت قائد اعظم کی طرف سے طے کیے گئے مقاصد حاصل ہونے چاہیں۔ پاکستان کی طاقت کو مسلم ممالک میں استحکام کے لیے استعمال ہونا چاہیئے۔ مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگیوں سے بچ کر رہنا چاہیئے اور جہاں تک ہوسکے، صلح میں اپنا کرادا کرنا چاہیئے۔ دفاعی طاقت کو مسلمانوں کے دفاع میں ہی استعمال ہونا چاہیئے۔