سیاسیات کے امریکی استاد اور نظریہ ساز پروفیسر جان میئر شیمر نے خبردار کیا ہے کہ پوری دنیا اور امریکہ بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے، اور یہ حکومت نہیں جانتی کہ کر کیا رہی ہے!
ویڈیو کی تفصیل:
جان میئر شیمر، ایک ویڈیو میں، مشہور امریکی جج انڈریو ناپولیتانو (Andrew Napolitano) سے بات چیت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ٹرمپ انتظامیہ اور امریکہ کی قومی سلامتی کے ایلیٹس فوجی قوت کی کمزوریوں کا صحیح ادراک نہیں رکھتے؛
نہ اس قوت کے استعمال کی دھمکی کے سلسلے میں، جیسا کہ ہم نے وینزویلا کے معاملے میں دیکھا اور نہ اس کے حقیقی استعمال کے سلسلے میں، جیسا کہ حوثیوں کے بارے میں ہم نے دیکھا۔
حقیقی مجبوریاں موجود ہیں، اور ہم بارہا اپنے آپ کو دلدل میں پھنساچکے ہیں، اس تصور کے ساتھ کہ فوجی طاقت سے ایک سیاسی مسئلے کو حل کر سکیں گے؛ ایک ایسا سیاسی مسئلہ جو اپنے اندر ہی سیاسی حل کا حامل ہوتا ہے نہ کہ فوجی حل کا۔
مجھ سمیت امریکا اور دنیا بھر سے کئی لوگوں کی رائے یہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی ٹرمپ انتظامیہ کے قابو سے نکل چکی ہے
یہ حکومت حقیقتا نہیں جانتی کہ کر کیا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا گینگ ہے جو گولی چلانا بھی نہیں جانتا۔
یہ مسئلہ یوکرین کے بارے میں صادق آتا ہے، وینزویلا، ایران اور پورے مسئلۂ فلسطین کے بارے میں بھی [ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کا] یہی حال ہے۔
لیکن اس کے باوجود، ٹرمپ یہ تشہیر بہت کرتا ہے کہ وہ “خارجہ پالیسی میں بہت زیادہ کامیاب رہا ہے، آٹھ جنگوں کا خاتمہ کرواچکا ہے اور نوبل انعام وصول کرنے کے لائق ہے!”