بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے جس میں دونوں کو 10 ،10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دفعہ 409 کے تحت 10،10 سال اور دفعات 5، 2، 47 کے تحت 7،7 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی، مجموعی طور پر دونوں کو 17 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 34 سال کی سزا سنائی گئی۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 1 کروڑ 64 لاکھ 500 روپے فی کس جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی اور بشریٰ بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوئی، اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کیس کا فیصلہ سنایا۔
کیس کی سماعت سپیشل جج سینٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے کی ہے، واضح رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی آخری سماعت 16 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی، جس کے بعد تین بار سماعت ملتوی ہوئی۔
دوسری جانب راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 میں ایک بار پھر توسیع کردی گئی ہے، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ 24 دسمبر تک برقرار رہے گا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس دوران شہر بھر میں جلسے، جلوس اور ریلیوں کے انعقاد پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جبکہ چار سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی،انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
توشہ خانہ ٹو کیس میں کب کیا ہوا؟
بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی پر12 دسمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد کی گئی، نیب میں 6 سماعتیں ہوئیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیس ایف آئی اے کو ٹرانسفر ہوگیا۔
سات جنوری 2024 کو انکوائری شروع ہوئی،12 جولائی 2024 کو نیب انکوائری مکمل ہوئی،13 جولائی 2024 کو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا، ریفرنس 20 اگست 2024 کو دائر ہوا، 6 ستمبر 2024 کو نیب ترامیم کیس کی رٹ سپریم کورٹ میں کی گئی ۔
9 ستمبر کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیس ایف آئی اے کو منتقل ہوا،10 ستمبر 2024 کو کیس ڈیوٹی جج کے پاس سماعت ہوا، نیب ترامیم بحالی کے بعد توشہ خانہ ٹو کیس میں سے ایف اے کو منتقل ہوا،11 ستمبر 2024 کو ریکارڈ پیش کیا گیا،16 ستمبر کو سپیشل جج سنٹرل کی عدالت میں پہلی پیشی ہوئی۔
18 ستمبر 2024 کو پہلے گواہ پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 23 اکتوبر 2024 کو ملزمان بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سیکشن 4 اے کے تحت ضمانت منظور کر لی۔
الزام
عمران خان اور بشریٰ بی بی نے تحفہ میں ملنے والی بالیاں، نیکلیس، 2 انگوٹھیاں گھڑیاں کم قیمت کا تعین کروا کر اپنے پاس رکھ لیں، نیب نے دستیاب معلومات پر 4 تحفوں کان کی بالیوں، نیکلس، انگوٹھی اور بریسلٹ کی انکوائری کی، دو تحائف کا تخمینہ 3 لاکھ 80 ہزار یورو لگایا گیا جو کہ پاکستانی رقم 71 ملین روپے سے کچھ زیادہ تھی۔
مالیت 2021 کے ریٹ کے مطابق لگائی گئی، یہ زیورات بلغاری کمپنی نے سبحان کمپنی کو فروخت کئے، ملزمان نے دو آئیٹم کی ویلیو 58 لاکھ لگوائی اور 29 لاکھ روپے جمع کرا کر چیزیں حاصل کیں، دو اشیاء میں بریسلٹ اور انگوٹھی شامل ہیں، ریفرنس 7 جنوری 2024 کو فائل ہوا تھا۔