اب حملے کا وقت ہے
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے دفتر کے سے شائع ہونے والا اداریہ
بارہ دنوں پر مشتمل طوفانی جنگ، محض ایک فوجی معرکہ نہیں تھی بلکہ استکباری قیادت کے لیے ایک “حسابی جھٹکا” ثابت ہوئی۔ شاید دہائیوں کی یک طرفہ بالادستی کے بعد پہلی بار امریکہ کو ایک ایسی حقیقت کا سامنا کرنا پڑا جسے وہ اب نظر انداز نہیں کر سکتا تھا: مغرب کی جنگی مشین ایران کے رویّے کو بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
یہ اسٹریٹجک بن بست توقع سے کہیں پہلے واشنگٹن کی بالائی سطح کی دستاویزات میں نمایاں ہو گیا۔ چندی قبل جاری ہونے والی امریکی قومی سلامتی کی دستاویز دراصل یک قطبی دور کے خاتمے کا اعلان ہے۔ جب اس اسٹریٹجک متن میں صاف لفظوں میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ فوجی یلغار کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ پر امریکی غلبے کا دور ختم ہو چکا ہے اور واشنگٹن کو “لامتناہی جنگوں” کی دلدل سے دور رہنا چاہیے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس نے بارہ روزہ جنگ کا پیغام سمجھ لیا ہے۔
لیکن میدانِ جنگ میں ناکامی، دشمنی کے خاتمے کے مترادف نہیں ہوتی۔ اس حکمتِ عملی کی تبدیلی کو تھنک ٹینکس نے زیادہ وضاحت سے بیان کیا ہے۔ 2025 میں رینڈ کارپوریشن کی جانب سے “محدود جنگوں” کی منطق پر شائع رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ “ایران کے ساتھ فوجی کشیدگی میں اضافہ نہ اس کے اقتدار کے ڈھانچے کو بدل سکا اور نہ ہی اس کے ارادے کو۔”
اسی طرح آئی این ایس ایس نے 2025 کے موسمِ گرما میں تصادم کے نتائج پر اپنے تجزیے میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ “فوجی آپشن ایران کے پروگراموں کی رفتار کم نہ کر سکا؛ دباؤ کا محور غیر فوجی ہونا چاہیے۔” جبکہ وائنیپ نے اپنی رپورٹ میں بارہ روزہ جنگ کے بعد اصل میدان کو “روایتوں اور ایرانی نوجوانوں کے ذہنوں پر مقابلہ” قرار دیا۔
یہ ہم آہنگی دشمن کی جنگی ترتیب میں تبدیلی کی اصل نوعیت کو عیاں کرتی ہے: سخت میدان سے ذہنی میدان کی طرف منتقلی۔ اس منصوبے کی جڑیں تاریخی ہیں۔ جب مغرب کے ہاتھ میں رضاشاہ کا ڈنڈا تھا تو ایرانی شناخت بدلنے کا مشن کشفِ حجاب، مشنری اسکولوں کے فروغ اور بعد میں دوسرے پہلوی دور میں “فرینکلن پبلشنگ پروجیکٹ” جیسے اقدامات کے ذریعے آگے بڑھایا گیا۔ آج بھی وہی ہدف ڈیجیٹل، ابلاغی اور میڈیا کے جدید ہتھیاروں سے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیکن اگر آج دشمن نے اپنی فوجی صف بندی بدل لی ہے، تو ہم اب بھی صرف دفاعی مورچوں میں کیوں رہیں؟ رہبرِ انقلاب نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت کے موقع پر اپنی تقریر میں راستہ واضح کر دیا کہ اس تبلیغی جنگ میں محض دفاع کافی نہیں؛ دشمن کے کمزور نکات کو نشانہ بنانا ہوگا۔
آج مغرب کے پاس، خاص طور پر طوفانُ الاقصیٰ کے بعد، کئی ایسے کمزور پہلو موجود ہیں جو ہمارے ابلاغی حملے کے مؤثر ہتھیار بن سکتے ہیں:
اوّل: امریکی طرز کے انسانی حقوق کی اخلاقی رسوائی۔ غزہ میں نسل کشی اور بچوں کے قتل کے اعداد و شمار اور شواہد نے مغرب کے اس دعوے کی آخری باقیات بھی جلا کر رکھ دی ہیں کہ وہ اخلاق، جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار ہے۔
دوم: مغرب میں نوجوان نسل کی بیداری۔ جو چفیہ کبھی جنوبی لبنان میں مزاحمت کی علامت تھا، آج امریکہ اور یورپ کی جامعات میں نوجوانوں کی آزادی پسندی کی نشانی بن چکا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں؛ یہ مظاہرے اور جلوس مغرب کے اسی “حیاطِ خلوت” میں ہو رہے ہیں جسے وہ اپنی اصل طاقت سمجھتا تھا۔
سوم: صہیونی ریاست کے ناقابلِ شکست ہونے کے افسانے کا انہدام۔ جو ریاست خود کو “یہودیوں کا محفوظ پناہ گاہ” کہتی تھی، آج اپنے ہی سرحدوں کے اندر سلامتی فراہم کرنے سے عاجز ہے، اور مغربی رپورٹس میں کھلے لفظوں میں اسرائیل کے اندر “عوامی اعتماد کے بحران” کی بات کی جا رہی ہے۔
دشمن کے یہ کمزور پہلو کم نہیں؛ یہ وہ دراڑیں ہیں جنہیں دشمن چھپانا چاہتا ہے، مگر یہی وہ مقامات ہیں جہاں ضرب لگانی چاہیے۔ جبهۂ مزاحمت کی ابلاغی ذمہ داری صرف شبہات کا جواب دینا نہیں، بلکہ ان کمزوریوں پر حملہ کرنا ہے۔ کیونکہ اگر ہم اپنی روایت نہیں بنائیں گے تو دشمن اپنی روایت عوامی ذہنوں پر مسلط کر دے گا۔
بارہ روزہ جنگ نے امریکہ اور مغرب کو ایک واضح پیغام دیا اور انہیں حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور کر دیا، کیونکہ وہ میدان میں شکست کھا چکے تھے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس شکست کو میڈیا کے میدان میں پورا نہ ہونے دیں، دشمن کو ذہنوں میں خود کو دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع نہ دیں، اور شہید و جلاد کے کرداروں کو الٹ پلٹ کرنے کی اجازت نہ دیں۔