ہماری رائے میں
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے دفتر کے سے شائع ہونے والا اداریہ
آج کی دنیا میں ذرائع ابلاغ رائے عامہ کی تشکیل اور حقیقت کے تعین کا سب سے مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ اس میں مغربی ذرائع ابلاغ کا کردار کہیں زیادہ نمایاں ہے، کیونکہ تعداد میں زیادہ ہونے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کے باعث وہ بیانیہ بنانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہ ذرائع بآسانی مظلوم اور مجرم کی جگہ بدل دیتے ہیں اور عالمی واقعات کی کوریج مغرب کے مفادات سے قربت یا دوری کے مطابق کی جاتی ہے۔ آسٹریلیا میں ہونے والا مسلح حملہ اس طرزِ عمل کی ایک واضح مثال ہے۔
سڈنی میں یہودیوں کی ایک تقریب پر حملے کے بعد مغربی مرکزی ذرائع ابلاغ نے فوراً اس واقعے کو وسیع پیمانے پر نمایاں کیا۔ سرخیاں “قومی صدمہ”، “عوامی سلامتی کو خطرہ” اور “سماجی یکجہتی کی ضرورت” جیسے موضوعات کے گرد گھومتی رہیں۔ رپورٹیں شدید جذباتی انداز میں ترتیب دی گئیں۔ متاثرین کو ناموں، تصویروں اور ذاتی زندگی کی تفصیلات کے ساتھ پیش کیا گیا، اور خبر کا ماحول اس طرح بنایا گیا کہ بہت کم وقت میں عوامی ہمدردی پیدا ہو جائے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے رائج انداز میں ایسی کوریج غیر متوقع نہیں تھی۔
اصل مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں یہی توجہ اور ہمدردی چنیدہ انداز میں استعمال ہوتی ہے۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ سڈنی کے واقعے کی کوریج درست تھی یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہی ذرائع ابلاغ دیگر انسانی سانحات، خاص طور پر غزہ میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے بھی یہی طریقہ اپناتے ہیں؟
سڈنی کے واقعے میں متاثرین فوری طور پر خبروں کا مرکز بن گئے۔ ذرائع ابلاغ نے ان کی زندگیوں پر بات کی، خاندانی تصاویر شائع کیں اور جذباتی کہانیوں کو نمایاں کیا۔ خبر اس طرح پیش کی گئی کہ یہ واقعہ مغربی عوام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن جائے۔
لیکن غزہ کی صورتحال کی کوریج میں بالکل مختلف انداز نظر آتا ہے۔ ستر ہزار سے زائد فلسطینیوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی شہادت کو زیادہ تر مجموعی اعداد و شمار کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ متاثرین کے نام، تصاویر اور ذاتی کہانیاں مرکزی ذرائع ابلاغ میں شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہیں، اور رپورٹوں کی زبان عموماً بے رنگ ہوتی ہے۔ نتیجتاً انسانی پہلو پس منظر میں چلا جاتا ہے اور خبر اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
بیانیے کے اس فرق سے انسانی جان کی قدر میں دوہرے معیار کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے اصولوں میں تمام متاثرین یکساں اہمیت نہیں رکھتے۔ جو لوگ مغربی جغرافیے میں ہوں یا سیاسی مفادات کے دائرے میں آتے ہوں، انہیں زیادہ اور ہمدردانہ کوریج ملتی ہے، جبکہ غزہ جیسے علاقوں میں جنگی جرائم کے متاثرین نظرانداز ہو جاتے ہیں۔
ذمہ داری کے تعین کا طریقہ بھی قابلِ غور ہے۔ سڈنی کے واقعے میں حملہ آور کو ایک واضح فرد کے طور پر پیش کیا گیا اور تشدد کی ذمہ داری براہِ راست اسی پر ڈالی گئی۔ اس کے برعکس غزہ سے متعلق خبروں میں ایسی زبان استعمال ہوتی ہے جو اصل ذمہ دار کو دھندلا یا پوشیدہ کر دیتی ہے۔ “مارے گئے” یا “جانیں ضائع ہوئیں” جیسے جملے بار بار دہرائے جاتے ہیں، مگر مجرم کا ذکر نہیں کیا جاتا، یوں اصل ذمہ داری پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
اس طرزِ بیان کے واضح اثرات ہوتے ہیں۔ جب ذمہ داری کھل کر سامنے نہ آئے تو تشدد ایک مبہم اور ناگزیر حقیقت کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں ناظر یا قاری یہ سوال کم ہی اٹھاتا ہے کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا، اور سرکاری بیانیہ بغیر سنجیدہ سوالات کے قبول کر لیا جاتا ہے۔
متاثرین کی نمائندگی میں یہ دوہرا معیار آہستہ آہستہ ہمدردی کو بھی سیاسی بنا دیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ہمدردی ایک عام انسانی ردِعمل کے بجائے چنیدہ ہتھیار بن جاتی ہے، جو جگہ اور سیاسی مصلحت کے مطابق کبھی فعال اور کبھی غیر فعال ہو جاتی ہے۔ یہ رویہ مغربی مرکزی ذرائع ابلاغ کے غیر جانب دار ہونے کے دعوے کو مکمل طور پر رد کر دیتا ہے۔ اگر تشدد اور جرائم کی مذمت کرنی ہے تو وہ ایک ہی معیار پر ہونی چاہیے۔ ایک قسم کے تشدد کو سخت ترین الفاظ میں اور دوسری کو بے رنگ زبان یا سکیورٹی کے جواز کے ساتھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔
مجموعی طور پر، گزشتہ دو برس سے زائد عرصے میں مرکزی مغربی ذرائع ابلاغ نے غزہ کے فلسطینی متاثرین کو محض اعداد میں بدل دیا ہے، گویا اس خطے میں انسانی جان کا ضائع ہونا معمول کی بات ہو۔ حالانکہ انسانی جان کی قدر ہر جگہ ایک جیسی ہونی چاہیے۔ غزہ میں ستر ہزار سے زائد شہداء کو صرف ایک عدد سمجھ لینا، اور چند افراد کی ہلاکت کو بڑا قومی صدمہ قرار دینا، سراسر ناانصافی ہے۔
سڈنی کے واقعے اور غزہ میں اسرائیلی جرائم کی کوریج میں مغربی مرکزی ذرائع ابلاغ کا فرق اس بات کی واضح مثال ہے کہ وہاں دوہرے معیار رائج ہیں اور انسانی جان کی قدر چنیدہ انداز میں کی جاتی ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ “ہمدردی کے لائق” متاثرین کو نمایاں کرتے ہیں اور فلسطینی متاثرین کو حاشیے پر دھکیل دیتے ہیں۔ بعض تو اس سے بھی آگے بڑھ کر نسل کشی کے ذمہ دار مجرم گروہ کو جواز فراہم کرتے اور اسے پاک صاف دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو مغربی ذرائع ابلاغ میں مسلسل بیانیہ سازی اور عالمی رائے عامہ کو اپنے رخ پر موڑنے کی کوششوں میں نظر آتی ہے۔